تازہ ترین:

فورٹریس سٹیڈیم کی کمرشل اراضی‘ فوج کے ذمہ 28 کروڑ واجب الادا ہیں: آڈٹ حکام

ـ 12 جون ، 2011
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز / آن لائن) سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) سیّد اطہر علی نے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو بتایا ہے کہ این ایل سی سٹاک ایکسچینج سرمایہ کاری سکینڈل کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں، سرکاری رہائشیں رکھنے کے ساتھ ساتھ اور ہاﺅس رینٹ بھی لینے والے ملازمین کے حوالہ سے پالیسی ایک ماہ میں مرتب کر لی جائے گی جبکہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے وزارت دفاع کو ہدایت کی ہے کہ فورٹریس سٹیڈیم کی زمین کے کمرشل استعمال کے حوالہ سے تحقیقات میں آڈٹ حکام سے تعاون کیا جائے۔ آڈٹ حکام کے مطابق فورٹریس سٹیڈیم لاہور کی اراضی کاروباری مقاصد کیلئے دینے کے سلسلے میں اب بھی آرمی کے ذمہ وفاقی حکومت کے 28 کروڑ 30 لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔ پی اے سی کا اجلاس ہفتہ کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں قائم مقام چیئرپرسن یاسمین رحمن کی زیر صدارت ہوا۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ فورٹریس سٹیڈیم کی اراضی کی پیمائش کیلئے آڈٹ ٹیم کے ساتھ تعاون نہیں کیا جا رہا۔ ڈی جی این ایل سی نے بتایا کہ این ایل سی بھی دفاعی ادارہ ہے، فوج کے ماتحت ہے اس کا چیئرمین بھی فوج سے ہی ہوتا ہے۔ آڈٹ حکام کا کہنا تھا کہ این ایل سی پلاننگ ڈویژن کے ماتحت ادارہ ہے۔ پی اے سی نے کہا کہ این ایل سی فوج کے ماتحت ادارہ ثابت نہ ہوا تو کرائے کی تمام رقم ریکور کی جائے گی۔ سرکاری اراضی پر شادی ہالوں کی تعمیر کے حوالہ سے ریمارکس دیتے ہوئے قائم مقام چیئر پرسن یاسمین رحمن نے کہا کہ اس عمل کو فوری طور پر روکا جائے۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے وزارت دفاع میں ایک سو تئیس ارب روپے کے آڈٹ اعتراضات پر اپنے احکامات پر عمل درآمد اور ذمہ دار فوجی افسران کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا جبکہ ڈی جی ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹس نے پی اے سی کے حکم کے باوجود قواعد کے خلاف استعمال کئے گئے دو کروڑ روپے واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ کمیٹی کے رکن نور عالم نے کہا کہ این ایل سی کا کردار بھی قبضہ مافیا جیسا ہے، ہم اگر کوئی غلط کام کریں تو جیل میں جاتے ہیں فوجی حکام کریں تو کارروائی نہیں ہوتی۔ کمیٹی نے ڈی جی ملٹری لینڈ کی وضاحتیں مسترد کر دیں اور کہا کہ اس بارے میں پی اے سی نے جو فیصلہ کیا کہ ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور رقم ری فنڈ کی جائے۔
آڈٹ حکام

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions