آئینی اصلاحات کمیٹی کا اجلاس‘ صوبائی خودمختاری کے معاملات پر ڈیڈ لاک....دستور سے ضیاءالحق اور مشرف کے نام نکالنے کا فیصلہ

ـ 11 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ ایجنسیاں) آئینی اصلاحات کمیٹی نے دستور سے ضیاء الحق اور مشرف کا نام نکالنے کا فیصلہ کر لیا۔ اجلاس میں صوبائی خودمختاری کے امور پر ڈیڈ لاک برقرار رہا‘ خودمختاری کے معاملات طے کرنے کیلئے سب کمیٹی قائم کر دی گئی۔ اجلاس میں معدنی وسائل کی تقسیم پر فیصلہ نہ ہو سکا۔ کمیٹی نے وسائل وفاق اور صوبوں کے مشترکہ کنٹرول میں دینے کی تجویز دیدی۔ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے ارکان نے جوڈیشل پالیسی کے حوالے سے فضل الرحمن کے بیان پر احتجاج کیا۔ تفصیلات کے مطابق آئینی اصلاحات کمیٹی اجلاس رضا ربانی کی صدارت میں ہوا۔ جس میں صوبائی خودمختاری اور معدنی وسائل کی تقسیم پر اتفاق رائے نہ ہو سکا جس کے بعد 7رکنی ذیلی کمیٹی بھی قائم کی گئی۔ کمیٹی میں محمد اسحاق ڈار‘ افراسیاب خٹک‘ وسیم سجاد‘ فاروق ستار‘ محمد مالک‘ اسرار اللہ زہری اور شاہد بگٹی شامل ہیں‘ خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں آئین میں جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کا ذکر ختم کرنے پر اتفاق رائے ہو گیا۔ آئین میں کسی فوجی آمر کا نام نہیں ہونا چاہئے۔ اجلاس میں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ن) نے جنرل ضیاء الحق کا نام آئین سے نکالنے کی تجویز کی مخالفت نہیں کی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں بندرگاہوں اور گیس و تیل کے ذخائر کو چلانے کا اختیار صوبوں کو دینے کی تجویز پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ (ن) لیگ‘ پی پی پی‘ (ق) لیگ‘ جماعت اسلامی اور جے یو آئی نے قوم پرست جماعتوں کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور اس معاملے پر غور کے لئے ایک سب کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ کمیٹی کا اجلاس آج پھر ہو گا۔
آئینی کمیٹی

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions