سپریم و ہائیکورٹس کے ججوں کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافہ

ـ 10 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (ریڈیو نیوز + آن لائن + آئی این پی) صدر آصف زرداری نے منگل کو سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے ججوں کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی منظوری دے دی‘ مجموی طور پر ججوں کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ صدارتی ترجمان کے مطابق یہ منظوری وزیراعظم کی طرف سے بھیجی گئی ایک سمری پر دی گئی اور صدر نے اس حوالے سے صدارتی احکامات 1‘ 2 اور 3 میں ترامیم کی ہیں، ججز کی تنخواہوں میں اضافے کی سمری پر دستخط صدر نے ایوان صدر میں منعقدہ تقریب میں کیے جس میں وزیر قانون و انصاف بابر اعوان، وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ، وزیراعظم کے مشیر لطیف کھوسہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ترجمان کے مطابق سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہ اب ماہانہ 2 لاکھ 45 ہزار 457 روپے اور ہائی کورٹ کے ججز کی تنخواہ 2 لاکھ 31 ہزار 563 روپے ماہانہ ہو گی۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی تنخواہ میں 60 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے اس کے بعد ان کی ماہانہ تنخواہ 2 لاکھ 59 ہزار 838 روپے ہو گی۔ سپریم کورٹ کا جج 1 لاکھ 88 ہزار 813 روپے تنخواہ حاصل کرتا تھا مگر اب 2 لاکھ 45 ہزار 457 ماہانہ حاصل کرے گا۔ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس 1 لاکھ 85 ہزار 250 کی بجائے اب 2 لاکھ 40 ہزار 825 روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرے گا جبکہ ہائی کورٹ کے جج کی تنخواہ موجودہ 1 لاکھ 78 ہزار 125 روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ 31 ہزار 563 کر دی گئی ہے، صدارتی ترجمان کے مطابق تنخواہ میں اضافے کے علاوہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کے الاﺅنسز میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ججز کو اب جوڈیشل الاﺅنس 87 ہزار 500 کی بجائے 1 لاکھ 13 ہزار 750 روپے ماہانہ ملے گا اسی طرح ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان اور ججز کا جوڈیشل الاﺅنس 70 ہزار سے بڑھا کر 91 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ سپریم کورٹ کے حوالے سے آئین کے پانچویں شیڈول کے تحت کیا گیا ہے صدر نے پانچویں شیڈول کی پرویژن کے تحت ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا اور اس حوالے سے صدارتی حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ آئی این پی کے مطابق ججوں کی ماہانہ تنخواہوں میں 60 سے 80 ہزار روپے اضافہ ہو گیا ہے جس کا اطلاق یکم جولائی 2009ءسے کیا گیا ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions