اسلام آباد / کراچی (جی این آئی+ نیٹ نیوز) چےف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ ادارے اپنے معاملات درست کریں‘ کیا یہ ضروری ہے کہ ہر معاملے میں عدالت ہی مداخلت کرے؟ یہ ریمارکس انہوں نے گذشتہ روز سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں زہریلے اور آلودہ پانی کے اخراج کے خلاف 1992ء سے دائر تین مختلف درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے دئیے‘ جسٹس افتخار کی سربراہی میں جسٹس چودھری اعجاز اور جسٹس غلام ربانی پر مشتمل تین رکنی بنچ نے متعلقہ حکام سے سمندری آلودگی کے تدارک کیلئے کئے جانے والے اقدامات اور تجاویز پر مشتمل جامع رپورٹ 10مارچ کل تک طلب کر لیں۔ قبل ازیں چیف جسٹس نے مزید کہاکہ 1992ء سے زیرسماعت یہ پٹیشنز اب مزید ملتوی نہیں کی جائیں گی‘ یہ سب ادارے اس عرصے میں کیا کرتے رہے ہیں اور اس مسئلہ کو حل کیوں نہیں کیا گیا۔ قبل ازیں کے پی ٹی کے وکیل خلیق احمد نے عدالت کو بتایا کہ شہر میں صنعتوں کا 75فیصد پانی بغیر کسی حفاظتی اقدام کے سمندر میں پھینکا جا رہا ہے۔ مزید سماعت کل تک کیلئے ملتوی کر دی گئی۔ علاوہ ازیں واجبات سے متعلق ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہاکہ پی آئی اے نے اکاﺅنٹ آفیسر امان اللہ کا مسئلہ حل نہ کیا تو عدالت اپنا فیصلہ دیگی جس پر سرپلس پول کے تمام ملازمین اپنا حق لینے عدالت آ جائیں گے اور پی آئی اے کو ان کے واجبات کی ادائیگی کرنا ہو گی جبکہ ایک اور مقدمہ میں عدالت نے سانگھڑ کے ایس ایچ او کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔
چیف جسٹس افتخار
Post New Comment