اسلام آباد (لیڈی رپورٹررر + نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں) وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے اعلانات میں سی ایس ایس میں خواتین میں 10 فیصد کوٹہ مختص کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی اداروں اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس پر عملدرآمد کریں‘ سرکاری ملازمتوں میں بھی خواتین کو 10 فیصد کوٹہ دیا جا رہا ہے‘ وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آ باد میں خواتین محتسب کا دفتر قائم کیا جائے گا۔ فرسٹ ویمن بنک کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ خواتین کے بارے میں نیشنل کمشن کو مکمل انتظامی و مالی خودمختاری دی جائے گی‘ بےنظیر بھٹو شہید کی شخصیت خواتین کے لئے رول ماڈل ہے۔ انہوں نے پشاور اور کوئٹہ میں جو یوتھ ڈویلپمنٹ سنٹر کام نہیں کر رہے انہیں خواتین ہاسٹل میں تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خواتین کیلئے قانون سازی کر رہی ہے اور تمام کالے قوانین ختم کیے جا رہے ہیں‘ حکومت خواتین کو یکساں حقوق فراہم کرنے کیلئے ہرممکن اقدامات کرے گی۔ نیشنل پلان آف ایکشن کو کابینہ میں پیش کیا جائیگا حکومت وزارت حقوق وترقی نسواں کو مزید مضبوط بنانے کیلئے اقدامات کرے گی۔ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کنونشن سنٹر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ حکومت محترمہ بےنظیر بھٹو کے ویژن مضبوط اور پختہ پاکستان جو ایک تعلیم یافتہ اور طاقتور قوم کے ساتھ ہو پر عملدرآمد کرنے کیلئے کام کر رہی ہے‘ اس کے حکومت خواتین کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے حکومت خواتین کو معاشی‘ معاشرتی اور سیاسی اقدامات کے ذریعے یکساں حقوق پہنچانے کو ترجیح دیتی ہے حکومت نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھائی ہے۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا‘ مسلم دنیا کی پہلی خاتون سپیکر ہیں۔ حکومت نے 70 فیصد اراضی خواتین کو تقسیم کی‘ سندھ حکومت نے 43 ہزار ایکٹر اراضی 4196 افراد میں تقسیم کی۔ خواتین کیلئے 34 ارب کی لاگت سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا جس سے 30 لاکھ خواتین کو ان کے گھروں میں رقوم پہنچائی جاتی ہیں اور خواتین کیلئے نوکریوں میں 10 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا۔ حکومت کالے قوانین کا خاتمہ کر رہی ہے اور خواتین کو ہراساں کرنے کے حوالے سے کو تحفظ حقوق نسواں بل متعارف کرایا گیا گھریلو تشدد بل 2009ءکا مسودہ تیار ہے۔ ورکنگ ویمن کے لئے ہاسٹل تعمیر کئے جائیں گے ۔ قومی پالیسی برائے ترقی و حقوق نسواں 2002ءاور نیشنل پلان آف ایکشن کا جائزہ لیا جائے گا‘ اسے موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق بنایا جائے گا۔ حکومت صنفی امتیاز کے خاتمہ کے لئے کوشاں ہے۔ تقریب میں خواتین ارکان پارلیمنٹ فرزانہ راجہ‘ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان‘ شہناز وزیر علی‘ پلوشہ بہرام‘ مہرین رزاق بھٹو‘ بیت المال کے ایم ڈی زمرد خان‘ سینٹ میں قائد ایوان سید نیئر حسین بخاری سمیت ترقی نسواں کے حوالے سے اعلیٰ حکام اور ملک بھر کے مختلف سکولز کالجز کے طلبا و طالبات نے شرکت کی۔ اس موقع پر بےنظیر بھٹو شہید کی خواتین کی ترقی کے لئے کوششوں کو سراہا گیا اور کل بھی بی بی زندہ ہے آج بھی بی بی زندہ ہے‘ جئے بھٹو کے نعرے لگائے گئے۔ تقریب میں 1947ءسے 2010ءتک اہم خواتین شخصیات کی قابل ذکر خدمات پر دستاویزی فلم دکھائی گئی۔ وزیراعظم کی مشیر برائے ترقی نسواں شہناز وزیر علی نے کہا کہ ہر سال خواتین اور مردوں کو یکساں برابری کا احساس دلانے کے لئے خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے جو قانون سازی کی جاتی ہے اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔ انفرادی طور پر ترقی نہیں کی جا سکتی‘ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں گی تو پاکستان جلد ترقی یافتہ مالک کی صف میں کھڑا ہو جائے گا۔ جنرل ضیاءکا دور خواتین کے لئے بدترین دور تھا‘ اسلام کے نام پر خواتین کے لئے امتیازی قوانین بنائے گئے۔ سیکرٹری وطمن ڈویلپمنٹ منصوبہ بندی ابرار قریشی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے اور قانون سازی پر عملدرآمد کے لئے م¶ثر ماحول کی ضرورت ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر حسین سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ صحت اور تعلیم حکومت کی ترجیحات میں شامل شعبے ہیں اور ان دونوں پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے‘ قومی صحت پالیسی تیار کی گئی ہے‘ صحت کے شعبے میں جگر‘ دل‘ یرقان‘ پولیو اور گردے کے امراض پر قابو پانے کو ترجیح دی گئی ہے۔
گیلانی
Post New Comment