اسلام آباد (ثناءنےوز) کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر پر بھارتی حکومت سے خفیہ مذاکرات کی پیشکش ٹھکراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت جب تک کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرکے تنازعے کے حل کے لیے بامعنی سہ فریقی بات چیت پر آمادہ نہیں ہوتا اس سے بات چیت نہیں ہوگی ۔ ایک جریدے سے انٹرویو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ دہلی میں قیام کے دوران بھارتی حکومت کے اعلیٰ افسر وجاہت حبیب اللہ کی قیادت میں وفد ان کے پاس آیا تھا جس نے بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم سے خفیہ مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔ میں نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں سے کہہ دیں کہ پہلے کشمیر کو متنازعہ تسلیم کریں‘ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بامعنی اور نتیجہ خیز سہ فریقی بات چیت کے لئے آمادہ ہوں‘ کالے قوانین ختم کریں تو بات ہو سکتی ہے ہم ذیلی اور چھوٹے ایشو پر بھارت سے بات نہیں کرنا چاہتے ۔ ہم مسئلے کے حل کے لیے سہ فریقی مذاکرات چاہتے ہیں۔ ہم نے ہر قسم کے دو طرفہ مذاکرات کومسترد کیا‘ بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے‘ برسوں کے تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کشمیر پر دو طرفہ یا خفیہ مذاکرات بے معنی ہیں خصوصاً اس لیے بھی کہ بھارت کی نیت ٹھیک نہیں۔ نیت ٹھیک نہ ہو تو مذاکرات کا کیا فائدہ ۔ اس سے پہلے مذاکرات کے 130 سے زیادہ دور ہو چکے ہیں ان کا کیا نتیجہ نکلا۔ بھارت نے ہماری باتیں تسلیم نہیں کیں اس لئے میں نے مذاکرات میں شمولیت کی‘ بھارتی پیشکش ٹھکرا دی۔ وجاہت حبیب اللہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے لیے خفیہ سفارت کاری اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی جاری ہے اس میں آپ کا کردار موثر ہو سکتا ہے میں نے ان پر واضح کیا کہ میں مذاکرات کے خلاف نہیں، تاہم مذاکرات کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات سہ فریقی ہوں اور اہل کشمیر کو حق خودارادیت د ے کر مسئلہ کشمیر حل کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر سے فوجی انخلاء ہو‘ بھارت سیاسی قیدیوں کو رہا اور ریاست سے فوجی انخلاءکرے۔ بھارت کے جمہوری دعوے جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ جعلی انتخابات بھارتی جمہوریت کا مکروہ چہرہ مزید بے نقاب ہوا ہے‘ آٹھ لاکھ فوج سنگینیں تانے سر پر کھڑی ہو تو کون ایسے انتخابات کا ناٹک تسلیم کرے گا۔ انسانی حقوق کے علم بردار اداروں کو چاہئے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں رکوانے کے لیے ذمہ داریاں پوری کریں۔ بھارتی جمہوریت کا خونیں اورمکروہ چہرہ دیکھا جانا چاہئے ۔پرویز مشرف کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر نرمی دکھانے سے بھارت کی درندگی کو مزید تقویت ملی ۔ مشرف نے کشمیر کاز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا‘ موجودہ پاکستانی حکومت نے یہ بھی کہہ کر بہت بڑا ظلم کیا ہے کہ ہم کشمیر کوپاکستان کا حصہ نہیں سمجھتے ، میرے خیال میں حکومت پاکستان کا یہ بیان تقسیم ہند فارمولے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کی موجودہ پالیسی پر امریکی دباﺅ کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔ پاکستانی حکمرانو ں کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ جس حکمران نے بھی تقسیم ہند کے فارمولے سے انحراف کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر سے بے وفائی کی وہ شرمناک انجام سے دوچار ہوا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کا نعرہ دیا۔ پاکستان نے ساٹھ برس میں تین جنگیں کشمیر پر لڑیں اور 1971ءمیں مشرقی پاکستان اسی تنازعے کی بنیاد پر الگ ہوا۔
Post New Comment