اسلام آباد (محمد نواز رضا/ وقائع نگار خصوصی) باخبر ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے آئینی اصلاحات پر پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کو مارچ کے وسط میں کام مکمل کرنے کے لئے کہا ہے تاہم کمیٹی جس سست روی سے اجلاس کر رہی ہے، مارچ کے وسط میں آئینی پیکج تیار ہونے کا امکان نہیں۔ ذرائع کے مطابق خصوصی کمیٹی نے ابھی تک عدلیہ‘ کنکرنٹ لسٹ‘ صوبائی خودمختاری کے ایشوز اور صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرنے کو ٹیک اپ نہیں کیا۔ اے این پی پختونخواہ کے نام پر کمپرومائز کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اے این پی کی اولین ترجیح سرحد کے نام کی تبدیلی ہے جو اس کی مرضی کے مطابق ہو۔ اسی طرح قومیت پرست جماعتیں صرف کنکرنٹ لسٹ کے خاتمہ پر راضی نہیں ہوں گی۔ خصوصی کمیٹی کے ایک رکن نے نوائے وقت کو بتایا کہ صوبائی خودمختاری اور سرحد کا نام تبدیل کرنے کے ایشو پر ڈیڈ لاک پیدا ہونے کا امکان ہے۔ وفاقی حکومت کو آئین میں 17 ویں ترمیم منسوخ کرنے کا معاملہ التواءمیں ڈالنے کا جواز مل سکتا ہے۔ کمیٹی کے بعض ارکان نے آئینی ترمیم دو مراحل میں پیش کرنے کی تجویز پیش کی تھی مگر حکومت نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے حکومت ڈیڈلاک کو ترمیم مو¿خرکرنے کے لئے استعمال کرے گی۔
Post New Comment