ہومیوپیتھک ڈاکٹرز کو صرف ہومیو پیتھ لکھا جائے‘ وہ ڈاکٹر نہیں: قائمہ کمیٹی

ـ 7 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے طب یونانی، آیورویدک، ہومیو پیتھک، ہربل میڈیسن بل 2008ءکی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔ یہ بل کمیٹی کے ارکان یاسمین رحمن اور ڈاکٹر عنایت اللہ نے تیار کیا تھا، کمیٹی نے وزارت صحت کو ہدایت کی کہ ہومیوپیتھک ڈاکٹرز کو صحت ہومیوپیتھ لکھا جائے وہ ڈاکٹر نہیں ہےں۔ 1962ءکے آرڈیننس مےں بھی ہومیوپیتھ ڈاکٹرز ہےں وہ بھی طبیب اور حکیم طرح کے معالج ہےں۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام ہومیو ڈاکٹر اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر کا استعمال ختم کریں۔ قائمہ کمیٹی نے تجویز دی کہ ہومیو پیتھ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر کا لفظ نہ لکھیں، چیئرمین قائمہ کمیٹی نے پمز مےں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے جاں بحق ہونے والی بچی شہربانو کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ڈاکٹر ندیم احسان کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس ہوا جس مےں طب، ہومیوپیتھک، ایلوپیتھک بل 2008ءپر بحث کی گئی، پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر مہرین رضا بھٹو نے موقف اختیار کیا کہ طبیب اور حکیم اپنے ساتھ ڈاکٹر نہیں لکھتے ہومیوپیتھ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر کیوں لکھتے ہےں؟ قائمہ کمیٹی نے کہا کہ ہومیوپیتھکس اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر نہ لکھیں، وزارت صحت اس سے متعلق سرکلر جاری کرے۔ کمیٹی نے اس پر بھی شدید تشویش ظاہر کی کہ کئی ہومیوپیتھک کالج اور حکمت کے ادارے ایک ایک کمرے پر مشتمل ہےں ان کی جاری کردہ اسناد پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ کمیٹی نے کہا کہ قومی ادارہ صحت ایک مردہ گھوڑا ہے جس مےں جان ڈالنے کی ضرورت ہے۔ 1999ءکے بعد سے یہ ویکسیئن تیار نہیں کر رہا جس سے سالانہ 10ارب روپے کی ویکسیئن درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions