اسلام آباد (نیٹ نیوز + ایجنسیاں) آئینی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے زیادہ تر کام مکمل کرلیا ہے، امکان ہے کہ رواں ماہ میں وہ اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کردے گی۔ کمیٹی مےں کئی مواقع پر مختلف معاملات پر اختلافات بھی پیدا ہوئے لیکن ابھی تک تمام سفارشات اتفاق رائے سے طے کی گئی ہےں تاحال صدر کے قومی اسمبلی اور گورنروں کے صوبائی اسمبلیوں کو توڑنے کے اختیارات ختم کرنے، آرمی چیف سمیت مسلح افواج کے سربراہوں، چیف الیکشن کمشنر اور آڈیٹر جنرل سمیت آئینی عہدوں پر تقرریوں میں صدر کے اختیارات وزیراعظم کو تفویض کرنے پر اتفاق ہوچکا ہے۔ بعض آئینی ماہرین کا خیال ہے کہ مجوزہ آئینی ترامیم کی منظوری کے بعد وزیراعظم طاقتور ہوجائیں گے اور ایوان صدر کا کردار محض پوسٹ آفس کا رہ جائے گا۔ کچھ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ صدر کو بے اختیار اور وزیراعظم کو سپرمین بنانے سے اختیارات کا توازن قائم نہیں رہے گا، ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو یا میاں نواز شریف طاقتور وزیراعظم بنے تو ان کا انجام فوجی بغاوت کے ذریعے ان کی حکومتیں ختم کرنے کی صورت میں نکلا۔ آئینی کمیٹی کو سیفٹی والو کا خیال رکھنا چاہیے۔ ججوں کی تقرری اور ترقی کے بارے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان طے پانے والے میثاق جمہوریت کے برعکس فیصلے پر اکتفا کرنا پڑا ہے۔ میثاق جمہوریت کے مطابق ججوں کی تقرری کے لیے جو کمیشن بننا تھا اس میں کسی ایسے جج کو سربراہ نہیں بنانا تھا جس سے کسی فوجی آمر کے عبوری آئین کے تحت کبھی حلف لیا ہو لیکن اس نقطے پر بظاہر موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان کی خاطر مسلم لیگ(ن) نے میثاق جمہوریت کی روح کے منافی اقدام پر پیپلز پارٹی کو متفق ہونے پر مجبور کیا۔ آئینی کمیٹی کے لیے سب سے بڑا چیلنج صوبائی خودمختاری کا معاملہ ہے جس پر فریقین میں سخت اختلافات پائے جاتے ہیں۔
Post New Comment