اوباما کی افغان پالیسی کے پاکستان پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں: شاہ محمود

ـ 6 دسمبر ، 2009
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکہ 18 ماہ میں افغانستان سے نکل سکتا ہے تو بہتر ہے جو ممکن نظر نہیں آیا پاکستان سے مذاکرات کیلئے بھارت پر عالمی دباﺅ بڑھ رہا ہے انتخابات کے بعد میں وزیراعظم کا امیدوار تھا لیکن جب پتہ چلا کہ یوسف رضا گیلانی کو نامزد کیا گیا ہے تو انہیں مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میری جگہ کسی کو بھی لے آئے فیصلہ قبول ہوگا۔ نجی ٹی وی سے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر بارک اوباما کی نئی افغان پالیسی سے سنگین اثرات ہو سکتے ہیں ہم نہیں چاہتے افغانستان میں فوجی اپریشن سے پیدا ہونے والے مسائل پاکستان منتقل ہو جائیں اس خطے قبائل‘ رواج اور اقدار کو ہم امریکیوں سے زیادہ سمجھتے ہیں افغانستان میں کامیابی کیلئے نیٹو کو منشیات کی سمگلنگ ختم کرنا ہوگی افغانستان کی سرحد سے ملحقہ ممالک کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ممبئی حملوں کے حوالے سے کچھ سوالات ہیں جن پر بھارت ہمیں مطمئن نہیں کر سکا لیکن ہم مشترکہ مفادات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں باہمی تعاون کیلئے بال کی کھال نہیں اتارنا چاہتے۔ شرم الشیخ معاہدے سے بھارت پیچھے ہٹ گیا بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کی سوچ مثبت ہے لیکن وہ اندرونی سیاست کے شکار ہیں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions