اسلام آباد : ایک کروڑ میٹرک ٹن استعمال شدہ فرنس آئل کی درآمد کا سختی سے نوٹس

ـ 5 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم کی طرف سے صوابدیدی اختیار کے تحت ایک کروڑ میٹرک ٹن استعمال شدہ فرنس آئل درآمد کرنے کی اجازت دینے کے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تمام ریکارڈ طلب کرلیاہے اور کمیٹی کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرح صوابدیدی اختیارات کا غلط استعمال ہوتا رہا تو کل حکومت ہیرون درآمد کرنے کی اجازت بھی دے دے گی جبکہ سیکرٹری تجارت کا کہنا ہے کہ طبی مقاصد کےلئے ہیرون بھی پابندی کے باوجو درآمد کی جاسکتی ہے۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو چیئرمین خرم دستگیر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا جس میں پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی سردار عمر گورگیج کی سفارش پر آئیڈیل ٹریڈنگ نامی کمپنی کو وفاقی وزیر تجارت کی طرف سے ایک کروڑ میٹرک ٹن استعمال شدہ فرنس آئل درآمد کرنے کی اجازت دینے کا معاملے کا جائزہ لیاگیا۔ سیکرٹری تجارت ظفر محمود نے بتایاکہ عالمی کنونشن کے تحت استعمال شدہ فرنس آئل اور ویسٹ لیوب ہم امپورٹ نہیں کرسکتے اسے ہم نے ممنوعہ اشیاءکی فہرست میں ڈال رکھاہے لیکن وزارت تجارت ضرورت کے مطابق اس کی درآمد کی اجازت دے سکتی ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین نے کہاکہ جس کمپنی کےلئے ایم این اے نے سفارش کی وہ ملتان کی ہے جبکہ استعمال شدہ تیل بلوچستان میں استعمال ہونا ہے تو یہ کیسے ہوگا۔ اس مقصد کےلئے سیاسی اثرو رسوخ استعمال کیاگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اجازت نامے کے حوالے سے تمام متعلقہ ریکارڈ کمیٹی کو فراہم کیا جائے۔ سیکرٹری تجارت کا کہنا تھا کہ ویسے تو ہیرون کی درآمد پر بھی پابندی ہے لیکن وزارت تجارت طبی مقاصد کےلئے اس کی درآمد کی اجازت بھی دے سکتی ہے بلٹ پروف کاریں اور ممنوعہ اسلحہ کی امپورٹ کی اجازت نہیں مگر وہ اس کے باوجود پاکستان میں آرہی ہیں اور اس تیل کے درآمد کرنے سے کوئی اوزون کی تہہ خراب نہیں ہوجائےگی۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions