اسلام آباد (این این آئی) سینٹ میں بدھ کو وزراءکی عدم موجودگی پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے ایک بار پھر شدید احتجاج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وزراءسینٹ کو اہمیت نہیں دیتے لٰہذا اجلاس احتجاجاً ملتوی کر دیا جائے جبکہ ڈاکٹر اسماعیل بلیدی نے قائمقام چیئرمین سینٹ جان محمد جمالی اور قائد ایوان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق سینٹ کا اجلاس بدھ کو مقررہ وقت سے 45 منٹ تاخیر سے شروع ہوا تو ایوان میں ایک بھی وزیر موجود نہیں تھا جس پر ڈاکٹر اسماعیل بلیدی نے کہاکہ اگر چیئرمین جان محمد جمالی اور قائد ایوان نیئر بخاری اتنے کمزور ہیں کہ وہ وزراءکوایوان میں نہیں بلا سکتے تو استعفیٰ دے دیں۔ اس پر جان محمد جمالی نے کہا کہ ہم استعفیٰ دینے کیلئے تیار ہیں آپ بھی ہمارا ساتھ دیں۔ بعد ازاں انہوں نے ایوان کو بتایا کہ وزراءاس وقت کابینہ کی میٹنگ میں ہیں وزیراعظم گیلانی سیلاب زدہ علاقوں کے دورے پر تھے ابھی واپس آئے ہیں اور کابینہ کا اجلاس جاری ہے۔ حسیب خان نے کہا کہ وزیر مملکت کابینہ کے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکتے آپ ریسکیو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جان محمد جمالی نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ وزراءکو لنگوٹ بندھوا کر میدان میں لائیں۔ وسیم سجاد نے کہا کہ جب سینٹ یا قومی اسمبلی کے سیشن جاری ہوں رولز کے تحت سیشن کے دوران کوئی کمیٹی بھی کام نہیں کر سکتی۔ نیئر بخاری نے کہا کہ یہ کابینہ کا خصوصی اجلاس ہے جو متاثرین سیلاب کے حوالے سے بلایا گیا ہے۔سینٹ میں پشاور میں خودکش حملہ میں جاں بحق ہونے والے کمانڈنٹ ایف سی صفوت غیور اور دیگر افراد کی مغفرت کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ پرائس کنٹرول، منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کا ترمیمی آرڈیننس 2010ءاور تعلیم و نفاذ (ثالثی معاہدات و غیرملکی ثالثی ایوارڈ) آرڈیننس 2010ءآج پیش کئے جائیں گے۔ پاکستان کے دورے پر آئے افغانستان کے نائب صدر دوئم کریم خلیل کی قیادت میں افغان وفد نے بدھ کو سینٹ کا دورہ کیا، افغان وفد کی مہمانوں کی گیلری میں آمد پر ارکان نے زور دار ڈیسک بجائے۔
سینٹ
Post New Comment