اسلام آباد (خبر نگار + ایجنسیاں) قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ وزارت دفاع‘ خزانہ‘ خارجہ کے آڈٹ اعتراضات کے دوران ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو کمیٹی کی کارروائی دیکھنے کی دعوت دی جائے گی۔ تاکہ ان کا فوجی جرنیلوں سے احتساب کروانے کا شوق بھی پورا ہو جائے۔ سول اداروں سے زیادہ کرپشن فوجی اداروں میں ہوتی ہے بھارت جو ہمارا دشمن ملک ہے اس کے ایک جنرل نے میرے ایک قریبی رشتے دار فوجی سے کہا تھا کہ جو فوج اے سی میں رہتی ہے وہ مقابلہ نہیں کر سکتی ہے۔ عوام کی منتخب قیادت سے زیادہ کرپشن فوجی آمروں کے دور میں ہوتی ہے جرنیلوںکو دی جان والی مراعات کی کوئی حد مقررکی جائے اگر کوئی ملک کے لئے اپنی جان قربان کرتا ہے تو اس کو پلاٹ اور زرعی زمین دی جائے مگر جوکچھ نہیں کرتے ان پر مراعات کی بارش نہ کی جائے گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاوس کے کمیٹی روم میں قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے سربراہ چودھری نثار علی خان کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں میاں ریاض حسین پیرزادہ سردار ایاز صادق‘ رانا محمود اسحاق ندیم افضل چن آسیہ ناصر آڈٹ حکام اور متعلقہ وزارتوںکے نمائندوں نے شرکت کی کمیٹی کے ممبر ندیم افضل چن نے کہا کہ میڈیا پارلیمنٹ کی اچھی باتوںکو بھی نمایاں نہیں کرتا ہمارے خلاف ہمیشہ منفی انداز میں بات لکھی جاتی ہے راجہ نجیت سنگھ کی بات اس انداز میں نہیں ہوئی مذاق میں بات ہوئی تھی۔ اس پر ہمارے میڈیا کے ایک ساتھی نے جھوٹی سٹوری دے دی۔ کمیٹی کے ممبر خواجہ آصف نے کہا کہ پارلیمنٹ مارشل لاء کی باتوں کی وجہ سے دباﺅ کا شکار ہے میڈیا والوں کو ایسی باتوں کا خیال رکھنا ہو گا میڈیا کے نئے دوستوں کے لئے خصوصی تربیت کا اہتمام کیا جائے اجلاس میں سول سوسائٹی میڈیا کے نمائندوں میڈیا مالکان سمیت الطاف حسین کو بھی بلایا جائے۔ ایم ڈی نیسپاک نے بتایا کہ حکومت نے واجب الادا 3.2 ملین روپے ادا نہ کئے تو ملازمین کو تنخواہیں نہیں دے سکیں گے۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ چیئرمین سینٹ اس وقت 4 گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں جو غیر قانونی ہیں رولز کے مطابق انہیں صرف ایک گاڑی استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ ڈپٹی چیئرمین 3 گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔ سیکرٹری سینٹ نے کہا کہ فنانس بل میں ترمیم کرکے سپیکر اور چیئرمین سینٹ کی مراعات میں اضافہ کردیا ہے۔ پی اے سی نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کی جانب سے اپنے اور اہل خانہ کی جانب سے گاڑیوں کے ناجائز استعمال کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سینٹ سیکرٹریٹ کو ہدایت کی ایک ماہ کے اندر اس معاملے کو قواعد کے مطابق بنایا جائے ورنہ پی اے سی خود کارروائی کرے گی۔ کمیٹی کے ارکان نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی جانب گاڑیوں کے ناجائز استعمال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خدا کا خوف نہیں عوام بھوکے مر رہے ہیں اور وہ چارچار گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں ریاض فتیانہ نے کہا کہ ہم چیئرمین سینٹ کے خلاف نہیں ہم نہیں چاہتے کہ حکومت بدلے اور وہ جیل چلے جائیں۔ چودھری نثار نے کہا کہ اس سے قبل بھی سپیکر جیل میں جاتے رہے ہیں۔ کمیٹی نے وفاقی وزراء کے پاس گاڑیوں کی تفصیلات پی اے سی کو فراہم نہ کرنے والی وزارتوں کے سیکرٹریز کو وضاحت کیلئے 7 ستمبر کو طلب کر لیا۔ کمیٹی نے سینٹ سیکرٹریٹ کو ہدایت کی کہ چیئرمین سینٹ کی 4 گاڑیوں کے استعمال کے معاملے کو قانونی ماہرین کی رائے لے کر ایک ماہ میں نمٹایا جائے بصورت دیگر پی اے سی تمام رقم کی ریکوری کرنے کی سفارش کرے گی۔ چودھری نثار نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آ کر چیئرمین سینٹ اور سپیکر کی مراعات کے حوالے سے موجودہ قانون ختم کرے گی۔ پانی و بجلی کے مالی حسابات کا جائزہ لیتے ہوئے پی اے سی کے استفسار پر بتایا گیا کہ واپڈا کے مختلف محکموں کے ذمہ 130 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ واپڈا نے مختلف آئل کمپنیوں کے 175 ارب روپے دینے ہیں جن میں سب سے زیادہ رقم پی ایس او کی ہے۔ فوج اور حکومت کے ذمہ ہمارے واجبات ہیں پنجاب حکومت کے ذمہ 10 ارب روپے ہیں۔ پی اے سی کے استفسار پر ایم ڈی پیپکو نے بتایا کہ واپڈا ڈیموں کی تعمیر پر تیزی سے کام کر رہا ہے‘ 34 بڑے اور درمیانے ڈیموں کی تعمیر پر کام ہو رہا ہے۔ دیامیر بھاشا ڈیم پر رواں سال کام شروع ہو جائے گا سیکرٹری پانی و بجلی نے کہا کہ بھاشا ڈیم پر 12 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔ چیئرمین سینٹ کی گاڑیوں کے حوالے سے زاہد حامد نے کہا کہ اس حوالے سے موجودہ ایکٹ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ چودھری نثار نے کہا کہ کل کوئی کمیٹی یہ کہہ دے کہ چیئرمین سینٹ یا سپیکر جہاز رکھ سکتے ہیں۔ آڈیٹر جنرل نے کہا کہ فنانس کمیٹی کو یہ گاڑیاں استعمال کرنے کی اجازت دینے کا اختیار نہیں۔ راجہ محمد امین نے کہا کہ فنانس کمیٹی نے سکیورٹی کی وجوہات کی بنا پر چیئرمین سینٹ کو 4 گاڑیاں استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ چودھری نثار نے کہا کہ اس معاملے کو ایک ماہ میں قانونی رائے لینے کے بعد نہ نمٹایا گیا تو پی اے سی ریکوری ڈالے گی جو بھی فیصلہ ہو گا اس کا اطلاق موجودہ چیئرمین سینٹ پر بھی ہو گا۔
Post New Comment