اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے 18ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا کہ قرارداد مقاصد سے اقلیتوں کی آزادی سے متعلق لفظ آزادانہ حذف کرنا املا کی غلطی نہیں تھی بلکہ اس کو جان بوجھ کر نکالا گیا ہے لیکن موجودہ پارلیمنٹ نے اس کو دوبارہ شامل کرکے اچھا اقدام کیا ہے۔ بدھ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں 17رکنی لارجر بنچ کے سامنے اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے اپنے دلائل جاری رکھے اور مو¿قف اختیار کیا کہ عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی کا تصور صرف جوڈیشل مجسٹریٹ کی حد تک محدود ہے جسٹس طارق پرویز نے کہاکہ اگر عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی صرف جوڈیشل مجسٹریٹ کی حد تک ہے تو پھر الگ آرٹیکل کی کیا ضرورت تھی۔ جسٹس میاں شاکر اللہ جان نے کہاکہ عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی کے اصول میں تفریق نہیں کی جا سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو بتایا جائے وہ کون سے حالات و واقعات تھے جب اقلیتوں سے متعلق لفظ آزادانہ کو نکالا گیا اس دوران سپریم کورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی نے عدالت کو بتایا کہ بنگلہ دیش میں چوتھی اور پانچویں ترامیم کو عدالتوں نے کالعدم قرار دیا تھا۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہاکہ ججز تقرری کے لئے متعارف کرایا گیا طریقہ کار ادھورا ہے اس سے بڑا بحران پیدا ہونے کا خطرہ ہے اور اس کی میثاق جمہوریت سے بھی کوئی مطابقت نہیں ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ججز تقرر کا نیا طریقہ کار ناقابل عمل نظر آتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا ججز تقرر میں جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس کمیشن کے چیئرمین ہوں گے ان کے ساتھ دو سینئر ججز ہوں گے اس طرح کمیشن میں چیف جسٹس کی اور سینئر ججز کی رائے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکے گا۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس کی موجودگی میں جو وہ کہیں گے اس کو ہی اہمیت دی جائے گی جس پر جسٹس رمدے نے کہاکہ جوڈیشل کمیشن کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے صرف نام تجویز کرنے کا ادارہ رہ گیا ہے حتمی فیصلہ پارلیمنٹری کمیٹی کے پاس ہے۔ جسٹس طارق پرویز نے کہاکہ ججز تقرری کے نئے نظام میں پبلک سپورٹ حاصل کرنا مقصود تھا اور پارلیمنٹ کو اہمیت دینا تھی تو الگ کمیٹی بنانے کی کیا ضرورت تھی‘ پارلیمنٹ کے ممبران کو جوڈیشل کمیشن میں شامل کیا جاتا۔ جسٹس رمدے نے کہاکہ ایڈیشنل ججز کے لئے عبوری حکم جاری کرنے پر عدالت کو مجبور کیا گیا ورنہ اس کا کوئی حل نکل سکتا تھا ہر معاملے میں عدلیہ کو مجبور کیا جاتا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا اگر جوڈیشل کمیشن ججز کے نام کو کمیٹی کو بھیجے اور کمیٹی اس نام کو واپس جوڈیشل کمیشن کو بھیج دے تو ایسی صورت میں کیا ہو گا اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ جسٹس رمدے نے کہا جج کی آزادی پارلیمنٹ کی وجہ سے نہیں آ جاتی؟ چیف جسٹس نے کہا ہماری طرف سے کوئی تجاویز نہیں صرف ہمدردانہ آگاہ کر رہے ہیں کہ اس کے بارے میں سوچیں۔ ریڈیو نیوز کے مطابق انہوں نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ عدلیہ کی آزادی کیلئے قراراد مقاصد یا آرٹیکل 2 اے کو کس حد تک استعمال کیاجا سکتا ہے۔ انہوں نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آئین کا جائزہ لے کر بتایا جائے کہ کس آرٹیکل سے عدلیہ کو مضبوط، آزاد اور مکمل محفوظ ہونا چاہیے۔ اٹارنی جنرل کے دلائل جاری تھے کہ عدالت سے سماعت جمعرات کی صبح تک ملتوی کر دی۔
Post New Comment