اسلام آباد (عزیز علوی) اسلام آباد میں دہشت گردی کی روک تھام کے لئے چین سے منگوائے گئے سکینرز انسانی زندگی کے لئے خطرہ قرار دیئے گئے ہیں ان سکینرز کی وفاقی دارالحکومت کے پانچ داخلی مقامات روات ٹی کراس‘ اسلام آباد چوک کشمیر ہائی وے‘ زیروپوائنٹ‘ نائنتھ ایونیو‘ آئی جے پرنسپل روڈ اور موٹروے چوک میں تنصیب کا معاملہ تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ ایک ارب روپے مالیت سے وزارت داخلہ نے یہ سکینرز چین سے درآمد کئے لیکن جب ان سکینرز کو استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ جس جگہ پر سکینرز لگائے جائیں گے ان کے نیچے سے گزرنے والی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے لئے یہ شعاعیں انتہائی نقصان دہ ہیں‘ ان کی زندگی خطرات میں گھر جائے گی‘ ان سکینرز کو چلانے کے لئے اور ان کی ریڈی ایشن کنٹرول اور مانیٹر کرنے کے لئے بھی اسلام آباد پولیس کے پاس مہارت دستیاب نہیں۔ انسانی زندگی اور صحت کے لئے ان سکینرز کو ناقابل استعمال قرار دیا جا رہا ہے جس سے قومی خزانے کا ایک ارب روپیہ خرچ کر دیا گیا‘ ان سکینرز کو پہلے چیک کرنا گوارا نہ کیا گیا۔ اسلام آباد پولیس اس بات پر شروع میں خوش تھی کہ سکینر ملنے سے وہ دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے والی بڑی گاڑیوں کا آسانی سے سراغ لگا لے گی لیکن جب ان سکینرز کے استعمال کو انسانی صحت اور چیک کی جانے والی بڑی گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور دیگر افراد کے لئے تباہ کن اثرات کا حامل قرار دیا گیا تو پولیس کے بھی رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ یہ تجویز بھی دی گئی کہ جو بڑی گاڑی اس ہائیڈرولک سسٹم کے سکینرز کے نیچے سے گذرے اس کے ڈرائیور کو اتار دیا جائے اور اس کی دوسری گاڑی سے اسے کھینچ کر گزارا جائے لیکن اس کو بھی انسانی صحت اور وہاں موجود افراد کے لئے تباہ کن قرار دیا گیا۔
Post New Comment