اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے مشہور ”سکیورٹی گارڈ قتل کیس“ میں ریمارکس دیتے ہئے کہا کہ سکیورٹی گارڈ کے قتل کا کیس پولیس کے لئے سونے کی کان بنا ہوا ہے۔ یہاں صرف پیسے کی قدر ہے انسانی جان اور خون کی قدر نہیں، پورے پورے تھانے بکے ہوئے ہیں، تین سال گزر گئے پولیس نے کسی ایک بندے کا بھی چالان نہیں کیا۔ لوگ ہم کو کہتے ہیں اس میں بڑے لوگ ملوث ہیں اس لئے تو کوئی بھی ہاتھ نہیں ڈالتا۔ اس کیس میں تین بڑے ڈویلپرز ملوث ہیں اسی لئے اس کو ہر کوئی اپنے طریقے سے موڑنے کی کوشش کر رہا ہے اگر کوئی سمجھتا ہے کہ بااثر شخص کی وجہ سے بچ جائے تو اب ایسا نہیں ہو گا۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ڈی ایچ اے کے گارڈ راجہ فیاض کے قتل کے کیس میں آئی جی پولیس اسلام آباد کو اپنی نگرانی میں تفتیش کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ کیس میں آزادانہ تفتیش کی ضرورت ہے تاکہ قتل کے اصل ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے اور کسی بھی صورت کسی شخص یا عدالت میں جاری کارروائی سے اثر لئے بغیر تفتیش کی جائے۔ عدالت کے روبرو آئی جی بنیامین نے اعتراف کیا کہ کیس میں معصوم لوگوں کو پکڑا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ روز چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں جسٹس عارف حسین خلجی اور جسٹس طارق پرویز پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تو حامد خاں نے دلائل دیتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد کی رپورٹ پر اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ اب سیشن جج کی کارروائی کے بعد ٹرائل کورٹ میں کیا کیس چلے گا۔ ایڈووکیٹ ظفر علی شاہ نے کہا گارڈ کے قتل کے بعد صلح ہو گئی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو انسانی جان کی قدر ہے اگر بندہ مر جائے تو پیسے دے کر صلح کر لو۔ ایف آئی آر درج کروا کے زمینوں کو چھینا جاتا ہے۔ اس کیس میں تو آئی جی بھی بے بس نظر آتا ہے وہ بڑے لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ آئی جی اسلام آباد بنیامین نے عدالتی نوٹس پر پیش ہو کر بتایا کہ یہ کیس میرے آئی جی بننے سے پہلے کا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آج تک آپ نے کسی ایک بندے کا چالان نہیں کیا آپ نے کیس ہی خراب کر دیا ہے۔ پولیس میں ایمانداری نہیں ہے اور کسی بھی صورت سچ جانچنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ فاضل عدالت نے مزید سماعت 27 فروری تک
Post New Comment