وزیراعظم کے اختیارات پارلیمانی کمیٹی کو کیسے دیئے جا سکتے ہیں : چیف جسٹس

ـ 1 ستمبر ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ ریڈیو نیوز+ اے پی پی+ اے این این) اٹھارہویں ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ ترمیم کردہ شق 175Aمیں ججز تقرری کیلئے وزیراعظم کا کردار ختم کردیا گیا ہے ، وزیراعظم پارلیمانی نظام میں انتظامی سربراہ ہوتا ہے ، اگر جوڈیشل کمشن میں وزیر قانون اور اٹارنی جنرل شامل ہوتے ہیں تو پھر پارلیمانی کمیٹی کا کیا کردار ہو گا ؟کوئی بھی وزیراعظم کے اختیارات نہیں لے سکتا ، یہ اختیارات پارلیمانی کمیٹی کو کیسے دیئے جاسکتے ہیں ؟ جبکہ اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا کہ ججز تقرری سے متعلق شق میں واقعی وزیراعظم کا کردار ختم کردیا گیا ہے اور اب یہ اختیار پارلیمانی کمیٹی کو دیدیا گیا ہے ۔ منگل کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 17رکنی لارجر بنچ نے درخواستوں کی سماعت شروع کی تو ایڈووکیٹ جنرل سندھ یوسف لغاری نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اٹھارہویں ترمیم نہ ہی عوامی اہمیت کا معاملہ ہے اور نہ ہی ترمیم کیخلاف دائر درخواستوں میں درخواست گزار متاثرہ فریق ہیں۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے قائدین کا موقف سنے بغیر فیصلہ نہیں کیا جانا چاہیے ، دائر درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں انہیں ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کیا جائے ۔ جسٹس رمدے نے کہاکہ اگر چیف جسٹس اور دو سینئر ججوں پر عدم اعتماد ہے تو پھر جرات مندانہ انداز میں کہا جائے کہ آپ کو صفر کردیا گیا ہے جو کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ کھل کر کی جائے ۔جن ممالک میں ججز کی تقرریاں پارلیمنٹ کے ذریعے کی جاتی ہیں ان ممالک میں فلور کراسنگ کو روکنے کیلئے آئینی ترمیم نہیں لانا پڑتی۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ عدالتیں متعدد فیصلوں میں منتخب نمائندوں کو عوام کی منشاءکا نمائندہ قرار دے چکی ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کا تصور ابھی تک بھارت میں بھی کوئی ٹھوس شکل اختیار نہیں کرسکا۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہاکہ ملک میں پارلیمانی نظام ہے جس کو تبدیل کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ،ملک میں جمہوریت اورعوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے نظام چلانے پر بھی سب کا اتفاق ہے ، عدلیہ کی آزادی ، انصاف کی فراہمی اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں جمہوریت قائم رہے۔ ہم بنیادی ڈھانچے کو تسلیم کرنے سے کیوں ہچکچا رہے ہیں۔واضح ہونا چاہیے کہ یہ ہمارے آئین کے بنیادی اصول ہیں ۔یہ اس لیے ضروری ہے کہ آئندہ کسی کو 12اکتوبر یا تین نومبر کی طرح آئین تبدیل کرنے کی جرات نہ ہو۔ اٹارنی جنرل کے دلائل جاری تھے کہ عدالت نے سماعت آج(بدھ) تک ملتوی کردی۔ثنا نیوز کے مطابق عدالت میں سیاسی بیانات دینے پر ایڈووکیٹ جنرل کی سرزنش کی دوران سماعت جج تقرری کے معاملہ پر ججوں کے درمیان زوردار بحث چھڑ گئی۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تقرری میں کوٹہ مقرر نہیں کیا جاسکتا جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا ہے کہ نسلی تعصب کی حوصلہ شکنی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ یوسف لغاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کے 26 میں سے صرف 6 جج سندھی جبکہ بلوچستان ہائیکورٹ میں جج باہر سے لائے گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری یہ نہیں جو آپ نے کہا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ جج پٹواری کا عہدہ نہیں کہ کوئی کوٹہ مقرر کیا جائے۔ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری میں کوٹہ مقرر نہیں کیا جاسکتا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے یوسف لغاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ریاست کی نمائندگی کررہے ہیں لیکن اسکے خلاف بات کررہے ہیں۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس میں کہا کہ ہم سب کو پاکستانی بن کر سوچنا ہوگا جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ڈنڈے کے زور پر تو کوئی پاکستانی نہیں بن سکتا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمیں تفرقے میں پڑنے کی بجائے پاکستانی بننا چاہئے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ لسانی تعصب کو ختم کرے۔ اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے کہا کہ 18 ویں ترمیم پارلیمنٹ نے قانون کے مطابق منظور کی۔ رضا ربانی کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کو عدلیہ کے نہیں وزیراعظم کے اختیارات منتقل کئے۔ الجہاد ٹرسٹ کیس میں عدالت نے ججز کی تقرری انتظامی معاملہ قرار دیا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ذہن میں رکھیں کہ آپ پرنسپل لاءآفیسر کے طور پر عدالت کی معاونت کررہے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ججز کی تقرری کے نئے طریقہ کار سے عدلیہ کی آزادی مستحکم ہوگی۔ پارلیمنٹ کو کسی بھی بنیاد پر کوئی بھی ترمیم کرنے کا اختیار ہے۔ جوڈیشل کمشن کو برائے نام نہیں کہوں گا۔ جسٹس طارق پرویز کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمشن کو صرف ایک پوسٹ آفس بنایا گیا جو برائے نام ہے۔اے پی پی کے مطابق وفاق نے سپریم کورٹ میں اٹھارویں ترمیم کیخلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران موقف اپنایا ہے کہ پارلیمنٹ نے مجاز ادارے کے طور پر آئینی ترامیم منظور کی ہے، ججوں کی تقرری کے نئے طریقہ کار سے عدلیہ کی آزادی مزید مستحکم ہو گی، اٹھارویں ترمیم کیخلاف درخواستیں دینے والوں میں سے کسی نے ججز تقرری کے پرانے طریقہ کار پر مکمل اعتماد کا اظہار نہیں کیا سب نے 175 اے کو چیلنج جبکہ اکثریت نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی حمایت کی ہے، آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت پارلیمنٹ کے پاس ترمیم کا مکمل اختیار ہے جس کو ہرگز چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions