جرنیلوں‘ بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کو پلاٹ دینا غیر قانونی قرار دینے کا بل اسمبلی میں لائیں گے : چودھری نثار علی

ـ 1 ستمبر ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی + آن لائن) پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی جانب سے جرنیلوں، بیورو کریٹس سیاستدانوں کو زرعی اراضی کمرشل یا رہائشی پلاٹ دینے کے عمل کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے اسمبلی میں قانون کا مسودہ پیش کرینگے جبکہ آئندہ جس نے بھی ایسا کیا اس سے زمین کی پوری قیمت وصول کی جائے گی چاہے وہ ملک کا صدر، وزیراعظم، چیف آف آرمی سٹاف، وزیر اعلیٰ ہی کیوں نہ ہو۔ یہ بات انہوں نے کمیٹی کے اجلاس میں کہی جس میں وزارت تجارت کے مالی سال 2007-08ءکے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیاگیا اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ 2005ءسے 2008ءتک وفاقی وزیر تجارت اور وزارت کے اعلیٰ افسران نے غیر ملکی دوروں کے دوران منظوری کے بغیر موبائل فون کی مد میں 24 لاکھ روپے کے اخراجات کئے جس پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری تجارت کو ہدایت کی ایک ماہ مےں وصولیوں کے حوالے سے رپورٹ پیش کی جائے آڈٹ حکام کی جانب سے پی اے سی کو بتایا گیا کہ 2008ءمیں مانچسٹر میں تعینات کمرشل سیکرٹری نے گالف کلب کی رکنیت حاصل کی جس کی فیس کی ادائیگی قوائد کیخلاف قومی خزانے سے کی گئی یہ فیس سات لاکھ بیالیس ہزار بنتی ہے ممبر شپ کی منظوری اس وقت کے وزیر نے دی جس پر کمیٹی نے نوٹس لیتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ جاری کردہ رقم کو وزیر یا کمرشل سیکرٹری سے وصول کیا جائے۔ چودھری نثار نے ایک موقع پر پی اے سی کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پی اے سی کوئی تحقیقاتی اختیار نہیں رکھتی تاہم کمیٹی کی اب تک کی کارکردگی کو سب لوگ سراہتے ہیں آڈیٹر جنرل نے اس حوالے سے بتایا کہ موجودہ کمیٹی اب تک 52 ارب روپے کی وصولیاں کروا چکی ہے۔ وزارت تجارت کے آڈٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر وزارت شفافیت کے معاملہ میں دلچسپی رکھتی تو اس کے عالمی معاملات پر آڈٹ کو اعتراض نہ ہوتا انہوں نے ہدایات جاری کیں کہ وزارت آڈٹ کے حوالے سے تمام اعتراضات کو کلیئر کرے یا پھر مالی بے ضابطگیوں کے مرتکب افراد کیخلاف کارروائی کی جائے ہم چاہتے ہیں کہ قومی خزانے کا ایک روپیہ بھی ضائع نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ صدر‘ وزیراعظم بھی اپنے صوابدیدی اختیارات کو محدود کریں کیونکہ ان کو بھی جوابدہ ہونا پڑے گا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions