کشمیر پر جابرانہ قبضے اور بھارتی دہشت گردی کیخلاف مقبوضہ کشمیر میں احتجاج جاری‘ فورسز کے تشدد سے مزید 6 شہید

ـ 31 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

سرینگر (اے پی پی+ آئی این پی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع بارہمولہ میں مزید چھ بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے ان نوجوانوں کو ضلع کے علاقے اوڑی میں کارروائی کے دوران شہید کیا۔ بھارتی فوج نے الزام لگایا کہ انہیں کنٹرول لائن پار کرتے ہوئے شہید کیا گیا۔ ادھر بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے ایک فوجی نے ضلع سامبا میں خیارا پوسٹ پر ڈیوٹی کے دوران اپنی سروس رائفل سے گولی مار کر خودکشی کر لی۔ جس سے جنوری 2007ءسے اب تک خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھ کر 191 ہو گئی ہے۔ پیر کو بھی مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال رہی جبکہ مختلف علاقوں میں ہزاروں لوگوں نے بھارتی فوج کے مظالم کیخلاف احتجاجی مظاہرے کئے، جنہیں روکنے کے لئے بھارتی فوج نے پھر کپواڑہ سمیت پوری وادی میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ گذشتہ روز حریت کانفرنس (گ) کی کال پر شام پانچ بجے کے بعد ہڑتال میں ڈھیل دی گئی اور سری نگر سمیت وادی کے دیگر قصبوں میں دکانیں اور کاروباری ادارے کھل گئے اور سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حرکت بحال ہوئی۔ اس دوران وادی کے دیگر کئی علاقوں میں سڑکوں پر نماز کی ادائیگی کا اہتمام کیا گیا۔ حبہ کدل، شہید گنج، چھتہ بل، نور باغ، پانپور، ورمل، اسلام آباد، سنگم، ہندوارہ اور اسلام آباد میں پرتشدد جھڑپوں، لاٹھی چارج، شیلنگ اور ہوائی فائرنگ میں بیسیوں افراد زخمی ہوئے۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا تازہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب فورسز نے شہریوں کی گاڑیوں کے شیشے چکنا چور کئے۔ شہید گنج کے لوگوں نے بتایا کہ شام 5 بجے جونہی لوگوں نے گھروں سے باہر آنا شروع کیا اور سڑکوں پر ٹریفک چلنے لگا تو حبہ کدل سے آنے والے بھارتی فوجیوں نے قبلہ مسجد کے قریب 15 گاڑیوں کے شیشے توڑ دئیے۔ ٹنکی پورہ میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے جلوس کی صورت میں مین چوک کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی جسے منتشر کرنے کےلئے فورسز نے شیلنگ کی جس سے 3 افراد زخمی ہوئے۔ جھڑپوں کا سلسلہ شام تک جاری رہا۔ حبہ کدل اور اسکے ملحقہ علاقوں میں فورسز نے خشت باری کرنیوالے نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی جس سے 6 افراد زخمی ہوئے۔ دریں اثنا کشمیر سے متعلق ایل کے ایڈوانی کے بیان کو مضحکہ خیز اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے پاکستان کو مشورہ دیا کہ وہ کشمیر پر مذاکرات سے زیادہ کام کی طرف توجہ دے اور سفارتی کوششوں میں تیزی لائے جبکہ عالمی برادری سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے روکے۔ اپنے بیان میں علی گیلانی نے کہا ایڈوانی نے کشمیر کی صورتحال سے متعلق بے سروپا باتیں کی ہیں اور یہ ان کی متعصبانہ سوچ کی عکاس ہے‘ مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیر کا حل پاکستان سے نہیں بھارتی پارلیمنٹ سے آئے گا، پاکستان کو دہشت گردوں کیخلاف صف آرا ہو کر مذاکرات کا راستہ اپنانا ہو گا۔ کشمیر میں بھڑکنے والی چنگاری دھیمی ہو سکتی ہے ختم نہیں، بھارت کو مقبوضہ کشمیر کی زمین پر راج کرنے کے بجائے لوگوں کے دلوں پر حکومت کرنی چاہئے۔ بی بی سی کے مطابق تجارتی مرکز لالچوک کے قریب بھارتی فوج نے نئے مہلک ہتھیاروں سے فائرنگ کر کے یٰسین ملک کے دو رشتہ داروں سمیت پانچ نوجوان زخمی ہو گئے۔ صدر ہسپتال کے ڈاکٹر نثار احمد وانی کے مطابق یٰسین ملک کے ماموں زاد یاسر شیخ کی حالت انتہائی نازک ہے۔ ان کے جسم میں پندرہ جگہوں پر سوراخ ہوئے۔ یٰسین ملک کے مطابق یہ نوجوان گھر کے باہر بیٹھ ک ر کیرم بورڈ کھیل رہے تھے کہ بھارتی فوج نے ان پر فائرنگ کر دی۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions