سرینگر (اے این این) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی درندوں کی جانب سے نہتے کشمیریوں پرظلم وستم کے پہاڑتوڑنے کاسلسلہ بدستورجاری ہے۔ ریاست کے طول وعرض میں پرامن احتجاجی مظاہرین کےخلاف درندگی کی تازہ کارروائیوں میں بیسیوں شہری زخمی ہوگئے۔ 14سے زائد نوجوان گرفتار کرلئے گئے جبکہ رہائشی مکانات اوردکانوں کے علاوہ تین مساجدکو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے رہنماوں سید علی شاہ گیلانی اورمیرواعظ عمرفاروق کو گھروں میں نظربند کردیا گیا۔ دختران ملت کی سربراہ آسیہ ندرابی کو حبک زکورہ علاقہ سے ایک ساتھی خاتون سمیت حراست میں لے لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق قابض فوج اورریاست پولیس نے حریت کانفرنس کے ٹی آر سی گراونڈ چلو پروگرام اور عالی مسجد جلسے کو ناکام بنا نے کےلئے ہتھکنڈے کے طور پر سرینگر شہراوراس کے گرد ونواح کے مقامات پر ایک با ر کرفیو نافذ کردیا ٹی آر سی گروانڈ اور عالی مسجد کو سیل کردیاگیا اور دونوں مقامات کی جانب جانے والے تمام راستوں پر جگہ جگہ خاردار تار بچھائی گئیں اور موبائیل بنکرز قائم کئے گئے۔ بٹہ مالو، بمنہ، قمرواری، نوہٹہ، خانیار، صفا کدل، مائسمہ، شہید گنج، صورہ، حضرت بل، کوٹھی باغ، چھانہ پورہ، مانہ محلہ، ہمہامہ، کرن نگر، لال بازار، نگین، نشاط، نوگام، پارمپورہ، راج باغ، رعناواری، رام منشی باغ، شیر گڈھی، ٹی آر سی، زکورہ اور زڈی بل پولیس تھانوں اور چوکیوں کے تحت آنےوالے علاقوں میں فوج اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعداد تعینات کرکے جگہ جگہ سڑکوں اور گلی کوچوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کی آمدورفت کو ناممکن بنایاگیا سرینگر شہرکے بیشتر حصوں میں تمام چھوٹے بڑے پلوں کو بھی مکمل طور پر بند کردیا گیا۔ کرفیوکے باوجود حیدر پورہ میں کرفیو کے باوجود سینکڑوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے جنہوں نے جلوس نکالا اور آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی۔ جلوس میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی۔ کئی گھنٹے تک ائر پورٹ روڈ پر نعرہ بازی کی اسی طرح عالی مسجد کے قریب لگائے گئے حفاظتی حصار کو توڑتے ہوئے لوگوںکی بڑی تعداد وہاں جمع ہونے میںکامیاب ہوگئی لیکن اس دوران فوجی درندوں نے وہاں جمع ہونے والے افراد پر فائرنگ اورشیلنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ حبک میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کیا قابض فوج کی جانب سے ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کے نتیجے میں درجن سے زائد نوجوان زخمی ہوگئے۔کپواڑہ میں قابض فوج اور مظاہرین کے درمیان اس وقت تصادم شروع ہوگیا جب اہلکاروں نے نماز تراویح کے وقت جامع مسجد میر محلہ، رہائشی مکانوں اوردکانوں کی توڑ پھوڑ کی اور اس واقعہ کی ا طلاع آس پاس کے علاقوں میں بھی پھیل گئی۔ لوگ احتجاجاً گھروں سے باہر نکل آئے اور مین چوک کی جانب پیشقدمی کی اسی دوران مین چوک کپواڑہ میں فوجی درندے مظاہرین پر ٹوٹ پڑے جبکہ اس موقع پر نوجوانوں نے پولیس اور فوج کے اہلکاروں پر پتھراو بھی کیا تصادم آرائی کے نتیجے میں 3 اہلکار اور 8 افراد زخمی ہوگئے جبکہ 5 افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔ رواتھ پورہ، بٹہ پورہ، پنزگام، کرالہ پورہ علاقہ میں بھی اسی طرح کی صورتحال کے پیش نظر فورسز نے ہوائی فائرنگ کی اور اشک آور گیس کا استعمال کیا۔ ادھر ہندوارہ، سگی پورہ، یونسو، وہی پورہ، کلنگام، لنگیٹ اور یارو میں بھی لوگوں نے آزادی اور اسلام کے حق میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ حریت کانفرنس کی اپیل پر پلوامہ اور شوپیاں میں مکمل ہڑتال رہی جس دوران دونوں اضلاع میں دکانیں بند رہیں اور سڑکوں پرکمرشل ٹرانسپورٹ کی نقل وحرکت نہ ہونے کے برابرتھی ہڑتال کے دوران پلوامہ اور پانپور میںقابض فوجیوں اورمظاہرین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ مقامی لوگوںکے مطابق فوجی اہلکاروں نے نائینہ میں مکانوں پر پتھرو کیا اور ریشی مسجد کو نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے علا قے میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ضلع کولگام میں ہمہ گیر ہڑتال کے دوران نئی بستی کیموہ اور گوپھہ بل میں نوجوانوں نے ہڑتال کی خلاف ورزی کر نے والی گاڑیوں کو روکا۔ اس دوران پانچ نوجوان گرفتار کرلئے گئے ۔ یاری پورہ، دھمال ہانجی پورہ، تاری گام، ونپوہ، دیوسر اور قاضی گنڈ میں مکمل ہڑتال رہی۔ ٹنگمرگ علاقے کے چاروں اطراف کے دیہات سے لوگ جلوسوں کی صورت آئے اور کرفیوتوڑ کر کنزر میں داخل ہوگئے اور ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ اس موقع پر مظاہرین اور فورسز کے مابین تصادم بھی ہوا۔ اس دوران ریاستی وزیر زراعت غلام حسن میر حالات کا جائزہ لینے کےلئے کنزر آئے۔ جوں ہی مظاہرین کو ان کی آمد کے بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے مظاہروں کاسلسلہ تیز کردیا اور وزیر موصوف کےخلاف نعرے بازی کی جس کے دوران مظاہرین پر شلنگ کی گئی جس میں چھ افراد زخمی ہوگئے۔ مرکنڈل سمبل میںسینکڑوں نوجوانوںکو قابو کرنے کیلئے فو جی اہلکاروں نے شلنگ کی اور 4 افراد کی گرفتاری عمل میںلائی گئی۔ لازبل، کاڈی پورہ،گلشن آباد، مین چوک، لال چوک، ریشی بازار، ملکھ ناگ، چینی چوک، جنگلات منڈی اور دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہرین پرفائرنگ کے نتیجے میں متعددافراد زخمی ہوگئے۔ پٹن میں لاٹھی چارج اور ٹیر گیس کے گولے داغے گئے۔ اس کارروائی میں ایک زخمی ہوگیا جسے پٹن ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ گلوان پورہ بڈگام میں بھی مظاہرین اور ریاستی پولیس کے درمیان تصادم کے واقعات پیش آئے۔
Post New Comment