سرینگر + نئی دہلی (آئی این پی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے تشدد سے زخمی ہونیوالا گیارہویں جماعت کا طالب علم تین روز تک ہسپتال میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلارہنے کے بعد دم توڑ گیا۔ اسی طرح 2008ءمیں شرائن بورڈ کشیدگی اور موجودہ احتجاجی تحریک کے دوران جام شہادت نوش کرنیوالوں کی تعداد برابر ہوگئی۔ طالب علم کی شہادت کے بعد حالیہ تحریک کے دوران شہداءکی تعداد 64 ہوگئی ہے۔ طالب علم کی ہلاکت کی خبر ملتے ہی صورہ میں سینکڑوں لوگ گھروں سے باہر آگئے۔ قابض فورسز نے شیلنگ اور فائرنگ اور پیلٹ گن کا استعمال کیا جس سے 18افراد زخمی ہوئے جن میں سے دوکی حالت نازک ہے۔ مشتعل ہجوم نے پولیس کی 2 گاڑیوں کوبھی نذرآتش کیا۔ پانپور میں سی آر پی ایف کی بلااشتعال فائرنگ سے ایک نوجوان زخمی ہوا اور بانڈی پورہ میںشیلنگ کی گئی ۔اس دوران حریت (گ) کے احتجاجی کیلنڈر کے تحت ہڑتال کے پیش نظر انتظامیہ نے سرینگر کے 8پولیس تھانوں کے تحت آنےوالے علاقوںمیں کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا۔ پائین شہر میںکرفیو اور سخت ناکہ بندیوں سے سناٹا چھایا رہا اور تمام معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئے۔ دوسری جانب صورہ انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدےق کی کہ شہیدہونیوالے گیارہویں جماعت کے طالبعلم عمر قیوم کے دونوں گردے بری طرح سے متاثر ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمر قیوم کی کیس ہسٹری میں یہ بات درج ہے کہ کسی نے اس کی شدید مار پیٹ کی ہے اور اس کے پیٹ کو بری طرح سے مارا گےا ہے جس کے نتےجے میں اس کے دونوں گردوں میں خون کی نسیں کٹ چکی تھےں۔ عمر قیوم کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ تےن بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ طالب علم کی ہلاکت کے بعد ایک اطلاع کے مطابق مظاہرین نے رےاست کے سابق وزیراعلیٰ مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے ایک مکان کو بھی آگ لگانے کی کوشش کی۔ پانپور میں سرینگر جموں شاہراہ پر سی آر پی ایف کی گاڑیوں میں سوار اہلکاروں نے بغےر کسی اشتعال کے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک نوجوان بری طرح سے زخمی ہوا۔ دوسری جانب لبریشن فرنٹ کے چیئر مین محمد یاسین ملک کو دو ماہ کی نظربندی کے بعد رہا کردیاگیا جس کے بعد انہوں نے آج 27 اگست کو فرنٹ کی مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ یاسین ملک کو ”جیل بھرو تحریک“ کے دوران پہلے 18 جون کو لال چوک میں گرفتار کرکے سینٹرل جیل سرینگر منتقل کیا گیا تھا۔ انہیں 25 جون کو رہا کر کے 26 جون کو سوپر جاتے ہوئے ایک بار پھر گرفتار کیا گیا تھا۔ دریں اثنا بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے کشمیر کی حالیہ صورتحال پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے وادی میں امن کے قیام اور مظاہرین کو کنٹرول کرنے کےلئے طریقہ کار پر نظرثانی کرنے پر زور دیا ہے جبکہ نکسل باغیوں کو ایک بارپھر تشدد کا راستہ ترک کر کے مذاکرات کرنے کی پیشکش کی ہے۔ پولیس سربراہان کے سالانہ تین روزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیرمیں عسکری کارروائیوں میں کمی کے باوجود عوامی مظاہرے باعث تشویش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر ریاستی عناصر اور قدامت پسندو ںکی موجودگی کے باعث ملک میں سیکورٹی کے حوالے سے حالات گھمبیر ہو گئے ہیںاور اس وقت پولیس کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے سکیورٹی ایجنسیوں کو تلقین کی ہے کہ وہ وادی کشمیر میں مظاہرین کا سامنا کرنے کے لئے ایسے طریقے استعمال کریں جو موثر تو ہوں لیکن جان لیوا نہیں۔ انہوں نے وزیر داخلہ پی چدمبرم کو ایک اعلی سطحی ٹاسک فورس تشکیل دینے کی ہدایت بھی دی جو دو تین ماہ کے اندر اس بارے میں اپنی سفارشات پیش کرے۔ ادھر حزب اختلاف کی بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ کشمیر کو خود مختاری دینے کی بات کی گئی تو اس کے خطرناک مضمرات شمال مشرقی ریاستوں میں بھی سامنے آئیں گے جہاں کئی ریاستوں میں دہائیوں سے علیحدگی پسندی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔
Post New Comment