پرتشدد واقعات روکنے میں ناکام ہوگئے‘ مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل نکالنا ہوگا : بھارتی وزیر داخلہ

ـ 26 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

نئی دہلی (آن لائن) بھارتی وزیر داخلہ چدم برم نے مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل نکالنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جاری پرتشدد واقعات کو روکنے میں ناکام رہا ہے حکومت کشمیر میں احتجاجی مظاہرین تک پہنچے گی۔ بھارتی وزیر داخلہ نے ملک میں داخلی سکیورٹی صورتحال کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ کئی بم دھماکوں میں سیفرون دہشت گردی کی نئی قسم ملوث رہی ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان خیالات کا اظہار وزیر دخلہ چدم برم نے نئی دہلی میں ڈی جی پیز اور آئی جیز کی دو روزہ کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر خطاب میں کیا بھارتی وزیر داخلہ نے کہا کہ اگرچہ ملک میں داخلی سکیورٹی صورتحال اطمینان بخش رہی ہے تاہم مقبوضہ کشمیر میں سرحد پار دراندازی میں کوئی کمی نہیں آئی ہے انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں امن وامان کی خراب صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور ریاستی عوام کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے حقوق کی بحالی کی خواہاں ہے اس کے ساتھ ہی انہوں نے اعتراف بھی کیا کہ مرکز ریاست میں پرتشدد واقعات روکنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت یہ اعتراف بھی کرتا ہے کہ کشمیر میں قیام امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا کشمیری عوام اور دیگر متعلقہ فریقین کیلئے قابل قبول سیاسی حل نکالنا ہو گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ چند روز میں حکومت ایک ایسے عمل کا آغاز کرے گی جس کے تحت کشمیر میں احتجاجی مظاہرین تک رسائی حاصل کی جا سکے گی اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکراتی عمل شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز کو صبروتحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی گئی نکسل باغیوں کے حوالے سے چدم برم نے کہا کہ نکسل ازم سے متاثرہ ریاستوں میں امن وامان کی بحالی کیلئے حکومت مزید سکیورٹی فورسز کو تعینات کرے گی تاہم انہوں نے کہا کہ نکسل باغیوں نے حکومت کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کا جواب نہیں دیا ہے ہندو انتہا پسند تنظیموں میں اضافے کے حوالے چدم برم نے کہا کہ ہندو انتہا پسند تنظیموں میں حالیہ مہینوں میں بم دھماکوں میں سیفرون دہشت گردی کی نئی اصطلاح سامنے آئی ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions