تازہ ترین:

”حقانی گروپ کی آڑ میں پاکستان پر حملہ امریکہ کو مہنگا پڑے گا“

ـ 24 ستمبر ، 2011
  • Adjust Font Size

لاہور (خصوصی رپورٹ) افغانستان میں مسلسل ناکامیوں کے بعد امریکہ نے اپنی شکست کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کیلئے الزامات کا ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ چند روز قبل امریکہ نے ایک نیا الزام تراشا ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کی حمایت اور سپورٹ کر رہا ہے جو افغانستان میں امریکی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے جس کے بعد امریکہ نے حقانی گروپ کے تعاقب میں پاکستان پر حملہ کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان جنوبی وزیرستان میں ان کے خلاف کارروائی کرے جس کے جواب میں حقانی گروپ کے رہنما نے بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ حقانی گروپ کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں اور ہم افغانستان میں محفوظ ہیں۔ افغانستان کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طالبان پہلے سے کہیں زیادہ منظم اور مضبوط ہو چکے ہیں وردگ میں امریکی فوجی ہیلی کاپٹر جس میں امریکی نیوی سیلز سوار تھے کو تباہ کرنے کے بعد ان کی حمایت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف حال یہ ہے کہ نیٹو افوا ج نے کنڑ اور نورستان کو خالی کر کے پاکستان مخالف تنظیموں کو وہاں بسنے کا موقع دیا ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق بھارت اور امریکہ ان تنظیموں کو پاکستان کے اندر کارروائی کیلئے اکسا رہا ہے۔ حقانی گروپ کے خلاف امریکہ کی ممکنہ کارروائی بھی امریکہ کو شکست سے نہیں بچا سکتی کیونکہ افغانستان کے اندر امریکہ کو شدید مزاحمت کے ساتھ سپلائی لائن کا مسئلہ ہے کیونکہ پورے افغانستان میں نیٹو کی سپلائی لائن کو طالبان کاٹ چکے ہیں اور اس حوالے سے نیٹو کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر امریکہ حقانی گروپ کی آڑ میں پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو نہ صرف یہ کہ قبائلی عوام امریکہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے بلکہ پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات بھی ہمیشہ کیلئے خراب ہو سکتے ہیں، قبائلی عوام کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے قبائلی علاقوں میں قدم رکھا تو وہ گذشتہ دس سال کی خواہشات کو پوری کرتے ہوئے اسے سبق سکھائیں گے کیونکہ امریکہ نے ڈرون حملوں کے ذریعے سینکڑوں بے گناہ قبائلیوں کو شہید کیا ہے اور ہم اسکا حساب برابر کرنا چاہتے ہیں۔ شمالی یا جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی انتہائی خطرناک عمل ہو گا اس کی مخالفت پورے پاکستان میں ہو گی اور وہ حلقے بھی امریکہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے جن کی اسے تائید حاصل ہے جبکہ امریکہ کو قبائل کی شدید مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions