نئی دہلی (نیٹ نیوز/ ایجنسیاں) بابری مسجد کی شہادت کے بارے میں لبرہان کمیشن کی رپورٹ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پیش کر دی گئی جس پر بی جے پی کے ارکان نے ایک مرتبہ پھر ہنگامہ برپا کر دیا‘ حکومتی اور اپوزیشن رہنما آپس میں گتھم گتھا ہو گئے اور ایوان مچھلی منڈی بن گیا، وزیرداخلہ پی چدم برم کو تقریر ادھوری چھوڑنا پڑی، سپیکرنے بگڑتی صورتحال کے پیش نظر اجلاس ملتوی کردیا۔ بھارتی ٹی وی رپورٹ کے ساتھ 13صفحات پر مشتمل ایکشن ٹیکن رپورٹ بھی پیش کی گئی جس میں کسی سیاسی رہنما کو کسی قسم کی سزا تجویز نہیں کی گئی البتہ کمشن نے مذہب کے نام پر سیاست کرنیوالے افراد کیخلاف کارروائی کیلئے قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہب اور سیاست کو الگ رکھا جائے اور حکومت میں شامل کسی سیاسی رہنما کو کسی مذہبی تنظیم کی قیادت نہیں سنبھالنی چاہئے۔ چدمبرم کی تقریر جاری تھی کہ بی جے پی کے رہنمائوں نے ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی شروع کردی جس سے ایوان مچھلی منڈی بن گیا ۔ بی جے پی کے صدر امر سنگھ نے بھارتی وزیرداخلہ سے ہاتھا پائی کی کوشش کی اس دوران حکومتی اور اپوزیشن رہنما آپس میں گتھم گتھا ہو گئے اور ایک دوسرے پر لاتوں اور مکوں کی بارش کردی۔ صورتحال کشیدہ ہونے کے باعث چدمبرم کو تقریر ادھوری چھوڑنا پڑی اور اجلاس ملتوی کردیا گیا۔ قبل ازیں بھارتی وزیرخزانہ پرناب مکھرجی کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں لبرہان کمیشن کی رپورٹ لوک سبھا میں پیش کرنے کی منظوری دی گئی تھی جس کی باقاعدہ طورپر وزیراعظم من موہن سنگھ سے اجازت لی گئی تھی۔ بی جے پی کے ارکان نے رپورٹ پیش ہوتے ہی راجیہ سبھا میں جئے سری رام کے نعرے لگاتے ہوئے شدید ہنگامہ آرائی کی۔ سماج وادی پارٹی کے رہنما امر سنگھ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بی جے پی کے سینئر رکن ایس ایس اہلووالیہ پر حملہ کردیا۔ امر سنگھ اور اہلووالیہ آپس میں گتھم گھتا ہوگئے جس پر دیگر ارکان نے ان کو بمشکل ایک دوسرے سے علیحدہ کیا۔ راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کے رحمن خان جو اجلاس کی صدارت کررہے تھے اس صورتحال سے اس قدر دلبرداشتہ ہوئے کہ وہ بغیر اجلاس ملتوی کرنے کا اعلان کئے ایوان سے اٹھ کر چلے گئے۔ اترپردیش کے سابق وزیراعلیٰ کلیان سنگھ نے بابری مسجد کی شہادت پر لبرہان کمشن کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بطور وزیراعلیٰ واقعہ روکنے کے لئے سکیورٹی انتظامات کئے تھے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھ دسمبر 1992ء کو سکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے تاہم ہم واقعہ کو رونما ہونے سے نہ روک سکے۔ انہوںنے اپنے موقف کی تائید میں اندرا گاندھی اور راجیوگاندھی کے قتل کی مثال دی جو سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود قتل ہو گئے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ انہوںنے پولیس کو ہندو انتہاء پسندوں پر گولی چلانے سے روک دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں چھ دسمبر 1992ء کو ہونے والے واقعہ پر کوئی افسوس یا غم نہیں ہے یہ قومی فخر کا دن تھا تاہم اس کا کوئی منصوبہ نہیں تھا انہوں نے مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کی حمایت کی۔بی جے پی کی سابق رہنما اوما بھارتی نے کہا ہے کہ وہ بابری مسجد کی شہادت کے واقعے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتی ہیں تاہم وہ اس کیخلاف قانونی لڑائی لڑیں گی کیونکہ وہ آسانی سے ثابت کرسکتی ہیں کہ مسجد کی شہادت میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں۔ لبرہان کمیشن رپورٹ میں بابری مسجد کی شہادت کے ذمہ داروں میں اپنا نام آنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اوما بھارتی نے کہا کہ وہ 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت کے واقعہ کی اخلاقی ذمہ داری اس حد تک قبول کرتی ہیں کہ انہوں نے لوگوں کے بابری مسجد کے قریب اکٹھے ہونے کی اپیل کی تھی تاہم بابری مسجد کی شہادت کی ذمہ دار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں رام جنم بھومی تحریک کا حصہ بننے پر فخر ہے۔
Post New Comment