سری نگر (نیوز ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی درندوں نے دومختلف مقامات پر گھروں میں گھس کرمیاں، بیوی اوران کی نوجوان بیٹی سمیت چار افراد کو شہید کر دیا جس کے بعد ریاست میں گذشتہ دوماہ سے جاری پرتشدد کارروائیوں میں جاںبحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 66 ہو گئی، مغل محلہ چھتہ بدل میں گشت پر مامور اہلکاروں کی نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر نکلنے والے نمازیوں پر شیلنگ اور بعدازاں واقعہ کےخلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اندھادھند فائرنگ سے بیسیوں افراد زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز بھارتی فورسز نے ضلع کولگام کے ایک مکان میں گھس کر میاں بیوی کو نوجوان بیٹی سمیت فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔ دریں اثناءبھارتی اہلکاروں کو مغل محلہ میں نہتے کشمیریوں پر شیلنگ اور فائرنگ کے بعد مقامی لوگوں کی بڑی تعداد نے قابض فوج کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کر دیئے اور آزادی اور اسلام کے حق میں نعرے بازی کی جبکہ فوجی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلئے اندھا دھند فائرنگ اور شیلنگ کی جس کے نتیجے میں دو درجن سے زائد زخمی ہو گئے۔ ادھر رعناواری میں مظاہرے کے دوران بھارتی فوج کی جانب سے 5 نوجوانوں کو گرفتار کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ علاوہ ازیں پٹن کے قریب گاوں سنگھ پورہ میں کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر 22 سالہ بلال کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا گیا۔ دوسری جانب حریت کانفرنس کی جانب سے دی گئی کال کے مطابق مقبوضہ وادی میں گذشتہ روز بھی ہڑتال جاری رہی جس کے پیش نظر تمام کاروباری ادارے‘ سکول اور دکانیں بند رہیں جبکہ صفحہ کدل میں حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب فورسز کو آزاد کشمیر کے جھنڈے لہراتے ہوئے نظر آئے جنہیں ہٹانے کی کوشش کی گئی تو مظاہرین نے فورسز پر پتھراﺅ کر دیا جبکہ فورسز نے اندھا دھند لاٹھی چارج و آنسو گیس کا استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ کی جبکہ فورسز کی جانب سے جنگلی جانوروں کیلئے مخصوص پبلٹ گن کا استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک درجن کے قریب افراد زخمی ہو گئے۔ دریں اثناءحریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے 90 کی دہائی کی طرح ازسرنو کریک ڈاﺅن کا سلسلہ شروع کرنے، شناختی پریڈ کرانے، نوجوانوں کی گرفتاریاں عمل میں لانے، خواتین کیساتھ تذلیل آمیز سلوک روا رکھنے کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے کریک ڈاﺅن کے دوران اجتماعی طور پر گھروں سے باہر نکل کر زوردار احتجاج کیا کریں اور نوجوانوں کی گرفتاری کی کوشش ناکام بنائیں۔ جبکہ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ فورسز کی جانب سے زیادتیوں اور مار دھاڑ کے ساتھ ساتھ مقدس مقامات کی بے حرمتی کے خلاف حریت کانفرنس آج سے پرامن احتجاجی دھرنوں کا پروگرام ترتیب دے چکی ہے۔ بھارت کی فورسز اسرائیلی طرز کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں اور کئی ایک زخمیوں کے جسموں پر تیروں کے بھی نشان ہیں۔ ادھر آن لائن کے مطابق بھارتی فورسز نے ضلع ڈوڈا میں لشکر طیبہ کے 2 عسکریت پسندوں کے ہتھیار ڈالنے کا دعویٰ کیا ہے۔
Post New Comment