نیو یارک (جی اےن آئی) تبت کے جلا وطن روحانی پیشوا دلائی لامہ کے ساتھ صدر براک اوباما کی حالیہ ملاقات سے امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی کی نئی وجہ بن گئی ہے۔ چین نے پوری کوشش کی تھی کہ یہ ملاقات نہ ہونے پائے ۔ واشنگٹن میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کے اعتراض کے باوجود واشنگٹن نے انسانی حقوق کے بارے میں اپنا موقف برقرار رکھا۔چینی عہدے داروں کی نظر میں دلائی لاما علیحدگی پسند تبتی اور بھکشو کے لباس میں بھیڑیے ہیں۔ لیکن بہت سے دوسرے لوگ انہیں امن کا چیمپیئن سمجھتے ہیں۔ جمعرات کے روز، وہ وہائٹ ہاوس میں صدر براک اوباما سے ملے اور تبت کے لوگوں کے لیے ان کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ صدر بننے سے پہلے ہی انتخاب کے دوران انھوں نے مجھے ٹیلی فون کیا تھا اور صدر بننے کے بعد بھی اور اپنے بیجنگ کےدورے میں انھوں نے تبت کے بارے میں اور دوسرے عالمی مسائل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے لیے میں نے ان کا شکریہ ادا کیاواشنگٹن میں ان کے ہوٹل کے باہر ان کے مداحوں کا ہجوم تھا۔ یہ لوگ گیت گا رہے تھے اور اوباما انتظامیہ کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔ بعض لوگوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ گذشتہ اکتوبر میں اوباما نے طے کیا تھا کہ وہ چین کے دورے سے پہلے دلائی لاما سے نہیں ملیں گے تا کہ چین ناراض نہ ہو۔
Post New Comment