تازہ ترین:

ایران میں خودکش دھماکہ‘ پاسداران انقلاب کے کمانڈرز سمیت 50 جاں بحق

ـ 19 اکتوبر ، 2009
  • Adjust Font Size
ایران میں خودکش دھماکہ‘ پاسداران انقلاب کے کمانڈرز سمیت 50 جاں بحق

تہران ( نیوز ایجنسیاں + مانیٹرنگ) ایران کے صوبے سیستان میں بلوچستان سے ملحقہ سرحد پر واقع علاقے پشین میں ایک خودکش حملے میں پاسداران انقلاب کے کئی اعلیٰ کمانڈروں اور قبائلی رہنمائوں سمیت 50سے زائد افراد جاں بحق اور 150زخمی ہو گئے۔ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے الزام لگایا ہے کہ حملے کا پلان ہمسایہ ملک پاکستان میں تیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا حملہ آوروں کو پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں کی مدد حاصل تھی۔ ان کی گرفتاری کا مطالبہ کرنا ہمارا حق ہے۔ دوسری جانب ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے خودکش دھماکے کے بعد پاکستانی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کیا اور اس دھماکے پر احتجاج کیا گیا۔ کالعدم تنظیم جنداللہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے جبکہ امریکہ اور برطانیہ نے ایرانی الزامات کو غلط قرار دیا ہے۔ قبل ازیں ایران نے امریکہ اور برطانیہ پر بھی حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔ صدر پاکستان اور وزیراعظم گیلانی نے حملے کی مذمت کی ہے۔ ریڈیو مانیٹرنگ کے مطابق صدر زرداری نے خودکش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ایرانی حکومت کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے اور دھماکہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے جبکہ وزیراعظم گیلانی نے بھی ایران میں ہونے والے خودکش دھماکے کی مذمت کی ہے اور انہوں نے حکومت ایران اور ایرانی عوام سے اظہار ہمدردی کیا ہے۔ حملے میں پاسداران انقلاب کے نائب سربراہ جنرل نور علی شوستری‘ سیستان بلوچستان انقلاب پاسداران کے کمانڈر بریگیڈئر جنرل راجہ بالی محمد زادہ سمیت 7کمانڈرز جاں بحق ہوئے۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت نازک ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ کالعدم تنظیم جند اللہ نے کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی سرحد سے 20 کلومیٹر دور ایران کے جنوب مشرقی صوبہ سیستان کے سرحدی علاقے پیشن میں خود کش حملہ اس وقت کیا گیا جب پشین بازار میں ایک سرکاری تقریب جاری تھی اور کافی تعداد میں سرکاری حکام اور اعلی فوجی عہدیدار موجود تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق خود کش بمبار نے تقریب میں آکر خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے بعد مزید دھماکے بھی ہوئے جس کے باعث چاروں اطراف لاشوں کے انبار لگ گئے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی نے اس حملے میں پاسداران انقلاب کے نائب سربراہ جنرل شوستری کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ریڈیو نیوز کے مطابق پاکستان میں ایرانی سفیر ماشاء اللہ شاکری نے کہا ہے کہ ایران میں کئے جانیوالے خودکش حملے میں جند اللہ تنظیم کے ملوث ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ جند اللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی نے پاکستانی صوبے بلوچستان کے نامعلوم مقام پر پناہ لے رکھی ہے۔ دونوں ممالک کے سکیورٹی اداروں کو دہشت گردی کی کارروائیاں روکنے کیلئے جامع منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ ایرانی وزارت داخلہ کے حکام جلد پاکستان کا دورہ کرینگے۔ سرحد پر سکیورٹی سخت کرنے کیلئے کئی بار پاکستانی حکام سے درخواست کی لیکن اس ضمن میں اجلاس نہیں ہوسکے۔ خودکش حملے کے بعد زیرو پوائنٹ بند کردیا گیا جبکہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ کوئٹہ سے بیورو رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ساتھ ملنے والی ایرانی سرحد کے قریب خودکش حملے کے بعد پاکستانی سرحد کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا ہے اور سکیورٹی میں مزید اضافہ کرکے سرحد کی سخت نگرانی کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ اے این این کے مطابق جند اللہ کے سربراہ عبدالمالک ریکی نے اپنے ایک بیان میں پاسداران انقلاب کی سرکاری تقریب پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر علی لاریجانی نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خودکش حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ حملے کا مقصد جنوب مشرقی ایران کو غیرمستحکم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ حملے میں امریکہ ملوث ہے۔ بی بی سی کے مطابق امریکہ نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور ایران کی طرف سے اس حملے میں اس کے ملوث ہونے کی اطلاعات کو غلط قرار دیا ہے۔ ایران نے برطانیہ پر بھی حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق حملہ سیستان بلوچستان کے علاقے میں پیش آیا ہے جس میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ سرکاری ریڈیو پر براہ راست نشر کئے جانے والے ایرانی پارلیمان سے خطاب کے دوران سپیکر نے کہاکہ ’ہم جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہیں‘۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہاکہ ’اس حملے کا مقصد واضح طور پر سیستان‘ بلوچستان میں سکیورٹی میں خلل پیدا کرنا ہے‘۔ اے ایف پی کے مطابق علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ حالیہ حملوں میں امریکہ ملوث ہے اور یہ حملے ایران کے خلاف امریکہ کی دشمنی ظاہر کرتی ہے‘۔ اس سے قبل آنے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی ٹی وی میں باوثوق ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ برطانیہ ان حملوں میں براہ راست ملوث ہے۔ ایرانی حکومت اس سے قبل بھی دونوں ممالک یعنی امریکہ اور برطانیہ پر شدت پسندوں کی حمایت کا الزام لگا چکی ہے۔ اس سے قبل ایران نے ایک سنی شدت پسند گروپ‘ جنداللہ‘ پر علاقے میں شدت پسند کارروائیاں پھیلانے کا الزام عائد کیا تھا۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ایران میں ہونے والے خودکش حملے میں ملوث نہیں‘ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ایان کیلی نے میڈیا کو بتایا کہ ہم ایران میں ہونے والے خودکش حملے کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس حملے میں امریکہ کے ملوث ہونے کے الزامات بالکل غلط ہیں ہم ان الزامات کی واضح طور پر تردید کرتے ہیں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions