کابل (اے پی پی) افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کے خلاف لڑائی کی حکمت عملی میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پیٹریاس نے طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے خلاف حکمت عملی کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس حکمت عملی کے تحت اب جنگ کو بڑے دائرے سے نکال کر چھوٹے حلقوں میں شروع کیا جائےگا۔ رپورٹ کے مطابق بنیادی طور پر یہ منصوبہ جنرل پیٹریاس کے پیشرو جنرل سٹینلے میک کرسٹل کا تھا تاہم اس کو عملی جامہ اب جنرل پیٹریاس دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اس حکمت عملی کو سراہا ہے تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جنگ کا انتہائی نازک طریقہ ہو سکتا ہے اس حکمت عملی کے تحت افغان حکومت اور نیٹو کمانڈ مقامی سطح پر مضبوط جنگی گروپ تشکیل دیں گے۔ ماہرین کے مطابق اس طریقہ کار میں تربیت یافتہ جنگی گروپوں کی جانب سے اسلحے کے حصول کے بعد ان کی وفاداریوں کے حوالے سے تشویش بہر حال موجود ہو گی۔ قبل ازیں ذرائع ابلاغ کی اس طرح کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جن میں بتایا گیا تھا کہ افغان صدر نے طالبان کے خلاف لڑائی کےلئے مقامی ملیشیاءکے قیام کی تجویز کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ امریکہ اس طرح کے تجربات عراق میں کر چکا ہے جس سے بھاری پیمانے پر شہری نقصان بھی ہوا ہے۔
Post New Comment