واشنگٹن(اے این این+ آن لائن) بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپماراﺅ نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں کے ملزموں اور حافظ سعید کے خلاف کارروائی تک جامع مذاکرات کی بحالی ممکن نہیں، پاکستان بھارت کے تحفظات دور کرنے کے لئے بامعنی اقدامات کرے۔ امریکی چیمبر آف کامرس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کالعدم جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ سعید احمد کے خلاف ایکشن لینا ہوگا اور مذاکرات کے لئے حقیقی پیشرفت کرنا ہوگی۔ واشنگٹن میں تھنک ٹینک وڈویلسن سینٹر سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو خبردار کر چکے ہیں کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ہماری پالیسی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو دی جانےوالی دفاعی امداد ہمیشہ بھارت کے خلاف استعمال ہوتی ہے اور پاکستان کو افغان سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کے لئے دی جانےوالی اس امداد کا سخت احتساب ہونا چاہیے۔ حافظ سعید سمیت عالمی دنیا سے دہشت گرد قرار دیئے جانے والے افراد کھلے عام بھارت کے خلاف بیانات دے رہے ہیں جس پر تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اچھے طالبان اور برے طالبان کے درمیان فرق نہیں ہو سکتا ایسا کرنا افغانستان کے لئے تباہ کن ہوگا۔ ثناءنیوز کے مطابق نروپماراﺅ نے کہا ہے کہ پاکستان سے مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کئے تاہم موجودہ صورتحال میں جامع مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ ادھر نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو میں بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی نے کہا کہ بھارت کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رہیں تاہم پاکستان اپنی سرزمین دہشت گردوں کا استعمال کرنے کی کھلی اجازت دے رہا ہے جس پر بھارت نے بار بار اعتراض کیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ نروپماراﺅ عنقریب پاکستان کا دورہ کریں گی وہ اپنے دورے کے دوران پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ دہشت گردی کے دوسرے امور پر بھی گفتگو کریں گی انہوں نے کہا کہ اس ممکنہ دورے سے نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان دوری کو کم کیا جائیگا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعطل کا شکار جامع مذاکرات کو بھی پھر سے بحال ہونے میں مدد ملے گی۔
Post New Comment