ہلمند میں گھمسان کی لڑائی‘ فوج مرجاہ میں داخل

ـ 16 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

کابل (آن لائن) جنوبی افغانستان میں امریکی، افغان و نیٹو فورسز کا طالبان کے خلاف آپریشن مشترکہ تیسرے روز میں داخل ہو گیا۔ امریکی میرینز اور افغان دستوں نے مرجاہ کے اندر تک پیش قدمی کر لی ہے۔ جہاں انہیں سخت مزاحمت کا سامنا ہے فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچانے کے متضاد دعوے بھی کئے جا رہے ہیں۔ فوجی دستے جنہیں بارودی سرنگیں تباہ کرنے والی اور بکتر بند گاڑیوں کی مدد بھی حاصل ہے مرجاہ قصبے میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں اتحادی افواج قصبے میں اس مقام سے اڑھائی میل کے فاصلے پر ہیں جہاں امریکی و افغان فوجیوں کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے اتارا گیا تھا تاہم امریکی فوج کا کہنا ہے کہ طالبان کی طرف سے بم اور بارودی سرنگیں بچھانے کی وجہ سے پیش قدمی آہستہ کی جا رہی ہے۔ طالبان ترجمان ملا عبدالرزاق نے کہا کہ ایسے پروپیگنڈے آپریشن میں ناکامی چھپانے اور طالبان سے عوام کا اعتماد ختم کرنے کیلئے پھیلائے جا رہے ہیں۔ برطانیہ کی مسلح افواج کے سربراہ چیف آف دی ڈیفنس ائر چیف مارشل سرجاک سٹیٹراپ نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے مضبوط قلعے کے خلاف جاری آپریشن مشترک میں افغان شہریوں کی اموات افغان مشن کے لئے سنگین معاملہ ہے۔ مرجاہ میں اتحادی اور افغان فورسز کے بڑے آپریشن ن کے باعث طالبان کی بڑی تعداد علاقہ چھوڑ کر سرحد پار پاکستان میں چلی گئی ہے۔ یہ بات افغان وزیر داخلہ نے پیر کے روز کہی۔ کابل میں سینئر افغان حکام اور امریکی کمانڈر جنرل میک کرسٹل کی موجودگی میں ہونے والی پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے افغان حکام نے دعوی کیا کہ مرجاہ سے طالبان کی بڑی تعداد علاقہ چھوڑ کر فرار ہو چکی ہے اس لئے اب وہاں پر کوئی بڑا خطرہ درپیش نہیں ہے۔ تاہم اس موقع پر افغان حکام نے مزید کہا کہ اگرچہ مرجاہ شہر کو کلیئر کرا لیا گیا ہے لیکن اس کے قریبی قصبوں میں ابھی تک طالبان مضبوط ہیں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions