کوئٹہ : دو خواتین زندہ درگور کرنے کے جرم میں 4 افراد کو عمرقید

ـ 10 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

کوئٹہ(بیورو رپورٹ/ نیٹ نیوز) بلوچستان کے ضلع جعفرآباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے دو خواتین کے زندہ درگور کرنے کے الزام میں چار افراد کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے، عدالت نے ایک شخص کو چھ ماہ جبکہ سولہ افراد کو باعزت طور پر بری کرنے کے احکامات صادر کئے۔ دوخواتین کو کاری قرار دے کر زندہ در گور کیے جانے کا واقعہ اگست 2008ءکو ضلع نصیر آباد کی تحصیل تمبو میں پیش آیا تھا، اس مقدمے کا فیصلہ اٹھارہ مہینے کے بعد ہوا ہے۔ اس واقعے کے انکشاف پر سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے نصیر آباد پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔ جس کے بعد پولیس کی مدعیت میں نصیر آباد میں واقع کوٹ خان میں مقدمہ درج کیا گیا ۔پولیس نے تین خواتین کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اکیس افراد گرفتار کئے تھے۔ انسداد دہشت گردی کے جج محمد عالم مینگل کی عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے چار ملزموں غوث بخش، رحمت اللہ، محمد عارف اور مہراللہ کو پچیس پچیس سال تک قید اور مجموعی طور پر چار لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جبکہ ایک اور ملزم محمد زاہد کو چھ ماہ قید کی سزادی۔ عدالت نے عدم ثبوت کی بناءسولہ افراد جن میں محمد مراد، مختیار احمد، اللہ ڈنہ، محمد قاسم، جبار علی ، بیڑا خان، امیر علی ، امام بخش، ذوالفقار، باران، سمندر، نوریزاور دیگر شامل ہیں کو مقدمے میں بری کردیا۔ خواتین کو زندہ درگور کرنے کے واقعہ پر قومی اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ بعد میں مرکزی اور بلوچستان کی صوبائی حکومت نے واقعہ کا نوٹس لے کر 22 افراد کو حراست میں لیا تھا جن میں سے چار کو منگل کو انسداد دہشت گردی کی مقامی عدالت نے سزا سنائی۔ اس واقعے پر خواتین نے سخت موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جن مردوں نے خواتین کو زندہ دفن کیا ہے انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے۔انہوں نے کہا تھا کہ ان علاقوں میں پسماندگی کہیں زیادہ ہے، بےروزگاری ہے اور تعلیم نہیں ہے جس وجہ سے جاگیرداروں اور سرداروں کی اجارہ داری ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions