تازہ ترین:

”اقوام متحدہ کے دفتر چلو“ کال پر بھارت نے کشمیری قیادت گرفتار کر لی

ـ 9 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

سرینگر (آن لائن) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس (میر واعظ گروپ) کی اپیل پر 8 فروری کو اقوام متحدہ کے مبصر دفتر کی طرف مارچ کی اپیل کو ناکام بنانے کیلئے وادی بھر میں سکیورٹی کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی۔ وادی کو سکیورٹی حاصر میں لے لیا گیا ہے۔ چھاپوں اور ٹریک ڈاﺅن کے دوران سینئر حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق، شبیر احمد شاہ ، نعیم احمد خان، ظفر اکبر بٹ سمیت متعدد حریت رہنماﺅں و کارکنوں کو رفتار و نظر بند کردیا گیا۔ فورسز کے تشدد سے درجنوں افراد زخمی بھی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق میر واعظ گروپ نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کیخلاف اقوام متحدہ دفاترکی طرف مارچ کی اپیل دے رکھی تھی جس کی حریت کانفرنس گیلانی گروپ سمیت تمام حریت پسند سیاسی، مذہبی و سماجی تنظیموں نے حمایت کی۔ اس موقع پر حریت کال کو ناکام بنانے کیلئے وادی بھر میں سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے۔ راجباغ میں واقع حریت میر واعظ کے ہیڈکواٹرز کو بھی سیل کردیا گیا جہاں ایگزیکٹو و جنرل کونسل کے اجلاس بھی نہ ہوسکے کریک ڈاﺅن اور چھاپوں کے دوران میر واعظ عمر فاروق ، شبیر شاہ ، نعیم احمد خان کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیا گیا جبکہ بلال غنی لون ، ظفر اکبر بٹ اور مولانا محد عبید اللہ قاری سمیت دیگر متعدد حریت رہنماﺅں و کارکنوں کو بھی گرفتار و نظر بند کردیا گیا تھا فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اندھا دھند لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس سے درجنوں افراد زخمی ہوگئے دریں اثناء سینئر حریت رہنما سید علی گیلانی نئی دہلی سے ایک اخبار کو انٹرویو میں اقوام متحدہ ، دفتر چلو کال کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیری عوام کے مفاد میں اور بھارتی قبضے کیخلاف کسی بھی پروگرام کی حمایت کرتے ہیں ادھر میر واعظ عمر فاروق نے بھی علی گیلانی کی حمایت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تمام حریت پسند ایک ایجنڈے پر اکھٹے ہو جائیں تو یہ خوشی کی بات ہوگی ۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions