مقبوضہ کشمیر : 2 طلباءکی ہلاکت کےخلاف مظاہرے‘ ہڑتال سے کاروبار زندگی معطل

ـ 8 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

سرینگر (آن لائن) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دو جواں سالہ طلباءکی ہلاکت کے واقعہ کے خلاف جنوبی و شمالی کشمیر میں شدید احتجاجی مظاہرے کئے گئے ہیں، مظاہروں و ہڑتال سے کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گیاہے ،کشمیر یونیورسٹی کے امتحانات بھی ملتوی کر دیئے گئے ہیں ، فورسز کے تشدد سے مزید درجنوں سے زائد افراد زخمی ہوگئے، یہاں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے برین نشاط میں بھارتی فوجیوں کی بلااشتعال فائرنگ سے نوجوان طالب علم زاہد فاروق کی ہلاکت کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ،گزشتہ روز بھی زاہد فاروق کی ہلاکت کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری، گزشتہ روز زاہد فاروق کو ہزاروں سوگواران کی آہوں و سسکیوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں شرکت افراد نے زبردست احتجاج کرتے ہوئے بھارتی فوج و حکومت کے خلاف جبکہ آزادی و اسلام کے حق میں نعرے لگائے ،مظاہرین ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور کارروائی کا مطالبہ کررہے تھے۔ قبل ازیں لاش کا پوسٹ مارٹم بھی کر دیا گیا ،فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے اندھا دھند لاٹھی چارج اور آنسو گیس استعمال کیا جس سے ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے جبکہ متعدد کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے ،علاقے میں فوج کے خلاف سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے ، دریں اثناءوادی بھر میں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے ہیں اور کرفیو کاسماں ہے ،گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بھارتی فوج کے ہاتھوں طلباء کی ہلاکت کے خلاف مسلسل چھ روز سے ہڑتال اورمظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس سے شمالی و جنوبی کشمیر میں کاروبارزندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، علاقے میں فورسز کی بھی بھاری نفری تعینات ہے ،لوگوں کو گھروں میں محصور کیا جارہا ہے ،فورسز کے ہاتھوں کئی مقامات پر لوگوں کو مارپیٹ اور لوٹ مار کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے،کئی افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ ادھر پر تشدد مظاہروں کے پیش نظر کشمیر یونیورسٹی کے تمام امتحانات ملتوی کر دیئے گئے ہیں ،نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائےگا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions