تازہ ترین:

ایران نے یورینیم افزودہ کرنے کا اعلان کردیا

ـ 8 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

تہران + میونخ (ریڈیو نیوز+ اے پی پی) ایران نے یورینیم افزودہ کرنے کا اعلان کر دیا ادھر امریکہ نے منوچہر متقی کے بیان کو دھوکہ قرار دیتے ہوئے۔ پابندیاں لگانے کی دھمکی دے دی۔ تفصیل کے مطابق ایراننی صدر محمود احمدی نثراد نے ایٹمی پروگرام کے سربراہ کو 20 فیصد یورینیم افزودہ کرنے کا حکم دیا ہے دریں اثناء امریکی سینیٹرز نے ایران پر یورینیم کے تبادلے کے معاہدے پر دھوکہ دینے کا الزام عائد کیاہے اور دھمکی دی ہے کہ امریکہ ایران پر پابندیوں کےلئے تیار ہے غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات امریکہ کے بااثر سینیٹرز جوزف لیبر مین اور جان کیری نے میونخ میں سیکورٹی کانفرنس کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کہ انکا ملک افزودہ یورینیم کے تبادلہ پر مغرب کے ساتھ معاہدے کے بالکل قریب ہے پر رد عمل میں امریکی سینیٹرز نے کہاکہ ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان بدیانتی پر مبنی ہے اور امریکہ تہران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کےلئے تیار ہے انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے حوالے سے سفارتکاری ختم ہوتی ہے تو اس کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عائد کردینی چاہیں فوج کی کبھی ضرورت نہیں پڑے گی سینیٹ خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین جان کیری کا کہنا تھا کہ کانگریس سینیٹ اور انتظامیہ کی سطح پر ہم سب متحد ہیں جبکہ یورپ میں ہمارے اتحادی بھی ہمارے ساتھ ہیں انہوں نے کہاکہ ایران کو این پی ٹی کے تحت پرامن مقاصد کےلئے افزودگی کا حق حاصل ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ اس کی کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں جن پر اسے پورا اترنا ہوگا ایران کے لئے ایٹمی ہتھیار کی تیاری ناقابل قبول ہے ۔ادھر امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز نے کہا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام عالمی برادری کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے۔ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں بصورت دیگر اسے مزید اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اسے عالمی برادری میں الگ تھلگ کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ایٹمی مسئلے کے حل کے لئے اس کے ساتھ مذاکرات کے راستے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions