تازہ ترین:

آزادی کشمیریوں کا حق ہے‘ بھارت مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے : یورپی‘ برطانوی اراکان پارلیمنٹ

ـ 8 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

لندن (نمائندہ خصوصی + آن لائن) برطانیہ مےں پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن، کشمیری رہنماﺅں، برطانوی اور یورپی ارکان پارلیمنٹ نے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے بھارت پر زور دیاہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فی الفور بند کرے‘{ آزادی کشمیر عوام کا حق ہے جو انہیں ملنا چاہئے۔ یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے تحریک حق خود ارادیت یورپ کے زیر اہتمام برسلز‘ اولڈہم‘ لندن اور بریڈر فورڈ میں منعقدہ تقریبات سے تارکین وطن کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول کےلئے جاری کشمیریوں کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے ارکان یورپی پارلیمنٹ گلینس ولموٹ ‘ ہینس سووبوڈا‘ ایڈرین سیورین‘ ر چرڈ ہورٹ‘ لوگی برلنگر‘ آرلن میکتھی‘ جان ایٹارڈ منٹالٹو اور سٹیفن ہیوج نے کہاکہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرکے کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی حق حق خود ارادیت دے۔ انہوں نے یقین دلایاکہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنے کےلئے یورپی پارلیمنٹ میں آواز بلند کریںگے اور پاکستان و بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پیدا ہونے والی کشیدگی کی فضاءکو خوشگوار بنانے میں مدد کریںگے۔ دریں اثناءلندن مےں پاکستانی ہائی کمشن مےں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلئے تقریب ہوئی جس مےں واجد شمس الحسن، نذیر شال، سرگیرلڈ کف مین، ڈاکٹر مظفر، حسن پروفیسر ظفر، ظہیر کیانی، محمد خان، مولانا یعقوب اور کشمیری کمیونٹی کے افراد نے شرکت کی۔ مقررین نے عالمی امن کےلئے مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا۔ پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے کہاکہ مسئلہ کشمیر پر پاکستانی سیاسی جماعتوں کا ایک موقف ہے۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ گیرلڈ کف مین نے کہا آئندہ ہفتے وزیراعظم گورڈن براﺅن سے ملاقات مےں مسئلہ کشمیر پر بات کرونگا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر مےں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے اظہار خیال کیا اور کہا اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل ہونا چاہئے۔ نذیر شال نے تحریک آزادی کشمیر جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا جبکہ آفتاب حسن نے یوم یکجہتی کشمیر پر صدر پاکستان اور وزیراعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions