افغانستان میں جاری اپنے آپریشنز میں کمی نہیں کریں گے: بھارت

ـ 7 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

نئی دہلی/کابل (ریڈیو نیوز+ نیوز ایجنسیاں) افغانستان کے دورے پر گئے بھارتی قومی سلامتی کے مشیر شیوشنکر مینن نے کابل میں افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی اور ان سے بھارتی باشندوں کی سکیورٹی کے معاملہ پر تبادلہ خیال کیا ہے جبکہ سی این این‘ آئی بی این کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے کہا ہے کہ وہ کابل حملے میں ہلاکتوں کے باوجود افغانستان میں جاری اپنے آپریشنز میں کمی نہیں کرے گا۔ شیوشنکر مینن نے کہا کہ بھارت نے کابل میں اپنا طبی مشن عارضی طور پر بند کیا ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے آپریشنز میں کمی کر رہا ہے۔ ادھر بھارت نے افغان طالبان اور آئی ایس آئی سے بات چیت شروع کرنے پر بھی غور کر دیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ افغانستان میں اپنے مشنز کی تکمیل کیلئے افغان طالبان سے بات چیت شروع کی جائے اس پر بھارت نے اپنی افغان پالیسی پر دوبارہ غور شروع کر دیا ہے۔ بھارتی حکام نے اس کا اقرار کیا ہے کہ افغانستان میں سیاسی اور فوجی صورتحال ابتری کا شکار ہے۔ آن لائن کے مطابق ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق بھارتی قومی سلامتی کے مشیر نے حامد کرزئی کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی جس میں افغانستان میں مختلف ترقیاتی و تعمیر نو کے منصوبوں پر کام کرنے والے بھارتی باشندوں کی سلامتی کے حوالے سے امور زیر بحث آئے جبکہ شیو شنکر مینن اس حوالے سے کچھ تجاویز بھی دیں شنکر مینن کی اپنے افغان ہم منصب رنگین دادفر سے بھی ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے 26 فروری کے حملے میں بھارتی باشندوں کی ہلاکت کے بعد واقعہ کی تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت بارے آگاہی حاصل کی رپورٹ کے مطابق شینو شنکر مینن نے بھارتی حکومت کی طرف سے جو تجاویز پیش کی ہیں ان میں بھارتی باشندوں کیلئے محفوظ مقامات کا قیام شامل ہے جہاں مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے بھارتی شہری رہائش رکھ سکیں ان کے کام والے مقامات پر سکیورٹی اہلکار تعینات کئے جائیں بھارتی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان حکومت ہمیشہ سے اس حوالے سے معاونت کرتی رہی ہے اور یقین کا اظہار کیا گیا ہے کہ بھارتی باشندوں کی سکیورٹی کو اپ گریڈ کرنے کیلئے مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ادھر بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خطرات سے ڈر کر بھارتی سفارتخانے کا کوئی اہلکار وطن واپس آنا نہیں چاہتا تاہم حکومت فیملی کی درخواستوں پر غور کرے گی۔ آئی این پی کے مطابق بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ یہ امداد بھارت کیخلاف استعمال نہیںکریگا‘ امریکی وزیر دفاع سے یہ معاملہ اٹھایا ہے اور ہمیں ان کی یقین دہانیوں پر اطمینان نہیں‘ جب تک پاکستان اپنے ہاں موجود 42دہشتگردی کیمپوں کیخلاف کارروائی نہیں کرتا صورتحال مشکل ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایک طرف امریکی وزیر دفاع ہمیں یقین دہانیاں کروا رہے ہیں لیکن دوسری جانب پاک فوج امریکہ سے ملنے والا اسلحہ جموں وکشمیر کی سرحد پر لگا رہی ہے جو ہمارے لئے انتہائی تشویش ناک ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ امریکہ اس کا نوٹس لے گا۔ ریڈیو نیوز کے مطابق بھارتی وزیر دفاع پی چدمبرم نے کہا ہے کہ پاکستان‘ بھارت سیکرٹری خارجہ مذاکرات میں کوئی بریک تھرو نہیں ہوا لیکن اس کے باوجود پاکستان سے بات چیت کا عمل جاری رہے گا۔ آئی این پی کے مطابق بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پاکستان کو قیدیوں جیسے انسانی اہمیت کے امور پر مذاکرات کی پیش کش ہے مگر اب تک پاکستان نے کوئی جواب نہیں دیا‘بھارتی وزارت امور خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے پہلے جنوری میں اور بعدازاں خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں دعوت دی ہے کہ دونوں ملکوں کی مشترکہ جوڈیشل کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے تاکہ ماہی گیروں اور دیگر قیدیوں کے امور پر بات کی جاسکے۔ ثنا نیوز کے مطابق بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی کہا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کے لئے پاکستان کو آزاد کشمیرمیں چلنے والے دہشت گردی کے 42تربیتی کیمپ بند کرنا ہوں گے۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے آزاد کشمیر میں چلنے والے ان تربیتی کیمپوں کو بند کرنے کے لئے ابھی تک کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions