تازہ ترین:

ریکوڈک کیس: سونے کی کان پاکستان میں ہے‘ غیر ملکی کمپنی نے عالمی عدالت جا کر ہماری اتھارٹی چیلنج کی: چیف جسٹس

ـ 3 فروری ، 2012
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+نوائے وقت نیوز+آئی این پی) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ریکوڈک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ سونے کی کان پاکستان میں موجود ہے، ٹیتھان کمپنی کا اس کیس میں عالمی عدالت سے رجوع کرنا ہماری عدالت کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ جمعرات کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل امان اللہ کنرانی پیش ہوئے اور رپورٹ پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ریکوڈک میں ٹی سی سی کمپنی کا کنٹریکٹ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان حکومت کے وکیل احمر بلال صوفی نے کہا کہ کمپنی نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کر لیا ہے جس کی سماعت جلد شروع ہونے والی ہے اس لئے عدالت اس معاملہ کو جلد نمٹائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جب کیس سپریم کورٹ میں زیر التواءتھا تو اسے عالمی عدالت میں کیوں لے جایا گیا۔ ٹی سی سی کمپنی کے وکیل خالد انور نے کہا کہ سپریم کورٹ نے معاملہ حکومت بلوچستان کو بھیجا تھا جس نے ٹی سی سی کی کنٹریکٹ مزید جاری رکھنے کی درخواست مسترد کر دی ہے اب سپریم کورٹ بھی کیس نمٹا دے کوینکہ حکومت بلوچستان کے فیصلے کے بعد یہاں کیس غیرم¶ثر ہو گیا ہے تاہم عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 8 فروری تک ملتوی کر دی جبکہ چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ زیادہ عرصے تک نہیں لٹکا سکتے، فیصلہ جلد کیا جائے گا۔ درخواست گزار کے وکیل رضا کاظم نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے 25 مئی 2011ءکے فیصلے پر تمام فریقین نے اتفاق کیا تھا۔ عالمی عدالت صرف معاہدے کو دیکھے گی اور اس کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک کیس بیک وقت دو عدالتوں میں نہیں چل سکتا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹیتھان کمپنی کو اس ملک کے عدالتی نظام کی کوئی پرواہ نہیں؟ عالمی عدالت سے رجوع کرنا ہماری عدالت کو چیلنج کرنے کی ایک کوشش ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions