سرینگر (مانیٹرنگ ڈیسک+ اے ایف پی+ جی این آئی+ آئی این پی) مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے باوجود مظاہرے کرنے پر فائرنگ کرکے 11سالہ بچے سمیت 10افراد کو شہید کر دیا ہے جس پر مظاہروں میں مزید شدت آ گئی ہے۔ ادھر حریت کانفرنس کے سربراہ علی گیلانی نے ”بھارتیو! کشمیر چھوڑ دو“ مہم روکنے کیلئے بھارتی حکومت کو 5شرائط پیش کر دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو اسلام آباد (اننت ناگ) میں مظاہرین پر جانوروں کو مارنے والی گنوں سے فائرنگ کر دی جس سے 12افراد چھلنی ہو گئے۔ بعدازان ان زخمیوں میں شامل 11سالہ بچہ ہسپتال میں دم توڑ گیا جس کے بعد ہزاروں کشمیری اسلام آباد کی سڑکوں پر نکل آئے اور جنگلات منڈی میں پولیس چوکی پر دھاوا بول کر ایک کانسٹیبل کو زخمی کر دیا۔ سرینگر میں بھی کرفیو ،سڑکوں پر لگی آہنی باڑوں اور بیرئرز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ہزاروں کشمیریوں نے مظاہرے کئے، سڑکوں پر ٹائر جلائے اور بھارتیو کشمیر چھوڑ دو کے نعرے لگائے۔ یہاں جھڑپوں میں 6کشمیری مظاہرین زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ کے پی روڈ، حضرت بل، لازبل، گلشن آباد، پلوامہ، کولگام، سو پور، ورمل، بانڈی پورہ اور کپواڑہ میں بھی مظاہرے کئے گئے جبکہ پوری وادی میں ہڑتال رہی۔ ادھر کنٹرول لائن کے اوڑی سیکٹر کے قریب بھارتی فوج نے 9نوجوانوں کو شہید کرکے ان پر دراندازی کا الزام لگا دیا ہے۔ حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ روز روز کی شہادت سے ثابت ہو گیا ہے کہ فائرنگ کے واقعات اتفاقیہ نہیں بلکہ بھارتی فورسز منصوبے کے تحت نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی تمام جماعتوں کے عہدیداروں نے 10شہادتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی فورسز نے کشمیری نہتے نوجوانوں کیخلاف ننگی جارحیت شروع کر رکھی ہے۔ ادھر سرینگر میں نیوز کانفرس کرتے ہوئے سید علی گیلانی نے مقبوضہ کشمیر میں 11جون سے جاری احتجاجی تحریک ختم کرنے کیلئے بھارتی حکومت کو 5 شرائط پیش کیں۔ ان شرائط میں بھارت جیلوں میں قید کشمیریوں کی رہائی، مقبوضہ کشمیر سے مکمل فوجی انخلا، قابض فوج کے اختیارات کا خاتمہ، 65کشمیری نوجوانوں کی شہادت میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور پُرامن مظاہرین کی حفاظت کو یقینی بنانا شامل ہیں۔ علی شاہ گےلانی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر قدرتی وسائل سے مالامال ہے اور بھارت کا فوجی قبضہ ختم ہونے کے بعد یہ رےاست ہر حےثےت سے خود کفالت کے راستے پر گامزن فلاحی رےاست بن سکتی ہے۔ تحریک آزادی پیسے سے نہیں نوجوانوں کے خون سے جاری ہے۔ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کے بےان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تنازعہ کشمیر کا حل بھارتی یا پاکستانی پارلیمنٹ سے نہیں بلکہ کشمیر سے آئےگا اور کشمیریوں کیلئے وہی حل قابل قبول ہوگا جس میں ان کی قربانیوں اور خواہشات کا خیال رکھا گےا ہوگا۔ ادھر بھارتی نیشنل ہیومن رائٹس کمشن نے اسلام آباد میں 29 جون کو 3 نوجوانوں کی شہادت پر بھارتی وزارت داخلہ اور سی آر پی ایف کے نام نوٹس جاری کرتے ہوئے چھ ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ ، مجسٹریل انکوائری کی تفصیل اور پوسٹ مارٹم رپورٹ طلب کرلی ہے۔
Post New Comment