سرینگر (مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر مےں کرفیو کے باوجود ہزاروں کشمیری سڑکوں پر نکل آئے، ایئر بیس پر حملہ کر دیا، بھارتی فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی جس سے مزید 4افراد شہید ہوگئے، ہنگاموں اور جھڑپوں مےں پولیس افسر سمیت کئی اہلکار زخمی ہوگئے، پولیس سٹیشن، ریلوے سٹیشن اور 2 فوجی گاڑیاں جلا دی گئیں، مظاہرین نے آزادی کے حق اور بھارت مخالف نعرے لگائے۔ ہلاکتوں کے خلاف وادی بھر میں مکمل ہڑتال اور زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے ہیں انتظامیہ کی طرف سے کرفیو میں مزید سختی کر دی گئی ہے۔ ایک تیرہ سالہ لڑکا محمد رفیق بٹ بھی شہداء شامل ہے۔ بتایا گیا ہے کہ رفیق بٹ گولی لگنے کے بعد تڑپ رہا تھا جسے چند خواتین نے بچانے کی کوشش کی لیکن فورسز اہلکاروں نے انہیں روک دیا اور رفیق تڑپ تڑپ کر نالی میں جاگرا اور اس کی موت واقع ہوگئی فائرنگ سے درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں مزید بیس افراد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ شہید ہونے والوں میں شوکت احمد چوہان، محمد احسن غنی، عدیل احمد میر شامل ہیں، ہڑتال کی کال حریت کانفرنس اور دختران ملت کی جانب سے دی گئی تھی کاروباری و تجارتی مراکز، تعلیمی ادارے، دفاتر و دفاتر بند رہے سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی جس سے کاروبار زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں پیرا ملٹری اور پولیس فورس کے اہلکار تعینات کردیئے گئے ہیں فورسز نے سرینگر کے علاوہ ورمول، سوپور اور اسلام آباد کے علاقوں کو مکمل طور پر سیل کردیا ہے خار دار تاریں بچھا دی گئیں اور رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں ہیں۔ حریت پسند رہنماﺅں نے فوج کے ہاتھوں مزید چار نوجوانوں کی ہلاکت کی مذمت کی ہے سینئر حریت رہنما میر واعظ عمرفاروق نے کہا ہے کہ کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے بھارت اپنا جارحانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ عالمی برادری اس کا نوٹس لے۔ حریت کانفرنس گیلانی گروپ کے جنرل سیکرٹری مسرت عالم نے کہا ہے کہ سی آر پی ایف اور پولیس کی جانب سے طاقت کے وحشیانہ استعمال سے ریاستی دہشتگردی سامنے آئی ہے۔ جے کے ایل ایف کے چیئرمین یٰسین ملک ، دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی ، ماس موومنٹ کی سربراہ فریدہ بہن جی اوردیگر رہنماﺅں نے بھی کی نوجوانوں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بہت سے مقامات پر حالات قابو سے باہر ہو چکے ہےں۔ بانڈی پورہ مےں ایک بے قابو ہجوم نے پولیس سٹیشن پر حملہ کر دیا جس سے بہت سے پولیس والے زخمی ہوئے اور ایس پی بانڈی پورہ کو سر مےں چوٹیں آئیں، کریری مےں اس وقت لوگ بھڑک اٹھے جب دو کشمیری نوجوانوں کی لاشیں وہاں پہنچیں جنہیں پولیس والوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ بھارتی سکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرے پر اس وقت فائرنگ کر دی جب وہ احتجاج کرتے ہوئے ہائی وے پر آگئے، فائرنگ سے دو خواتین سمیت 13مظاہرین زخمی ہوئے، ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ 20افراد کو ہسپتال داخل کیا گیا ہے جنہیں گولیوں سے زخم آئے ہےں، پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ بے قابو ہجوم نے کریری پولیس سٹیشن کو آگ لگا دی، اخبار کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے ہفتے کے روز بہت سی سرکاری عمارتوں پر حملہ کیا سوپور مےں ریلوے سٹیشن جلا دیا گیا، ایئر فورس کی دو گاڑیاں جلا دی گئیں۔ پمپورے اور بارامولا مےں دو پولیس سٹیشنوں پر حملہ کیا گیا، واتھورا مےں بجلی گھر پر حملہ کیا گیا۔ سمبورا مےں پولیس کی گاڑی پر پٹرول بم پھینکا گیا جس سے اس مےں آگ بھڑک اٹھی، پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہروں مےں 6 افسر اور سینکڑوں جوان زخمی ہوئے۔
Post New Comment