قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے تمام ارکان نے دھمکی دی ہے کہ اگرکرکٹ بورڈ تحلیل اور میچ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کو واپس نہ بلایا گیا تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔

ـ 30 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے تمام ارکان نے دھمکی دی ہے کہ اگرکرکٹ بورڈ تحلیل اور میچ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کو واپس نہ بلایا گیا تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔

قائمہ کمیٹی برائے کھیل کا اجلاس چیئرمین اقبال محمد علی کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کے بعد میڈیا کوبریفنگ دیتے ہوئے اقبال محمد علی نے کہا کہ سٹے بازی میں پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ، منیجر یاورسعید سلیکشن کمیٹی کے ارکان، کپتان سلمان بٹ ، کامران اکمل، محمد عامر، محمد آصف، وہاب ریاض اور دیگر کھلاڑی ملوث ہیں۔
 وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر کے زخمی ہونے کا جھوٹا سرٹیفکیٹ پرائیویٹ ڈاکٹر سے بنوایا گیا تاکہ کامران اکمل کو ٹیم میں شامل کیا جاسکے۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اقبال محمد علی نے کہا کہ انہوں نے صدر، ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی جی نیب کو خط لکھے ہیں کہ ایک تحقیقاتی ٹیم انگلینڈ بھیجی جائے جو سکاٹ لینڈ یارڈ سے معلومات حاصل کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کے ڈھانچہ کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔
 
قائم مقام سیکرٹری کھیل عزیز احمد بلور نے کہا کہ میڈیا میں میچ فکسنک کی خبریں نشرہونےکے بعد اعجاز بٹ اور مینجمنٹ کے دیگر ارکان سے فون پر رابطہ کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھائے۔ اب خط لکھ کران سے رپورٹ مانگی گئی ہے۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions