ایوان وزیراعلی لاہور میں مسلم لیگ نون کے سینئررہنمائوں کا دو روزہ اجلاس پارٹی کے قائد میاں نواز شریف کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ انہوں نے وفاق کے ساتھ سیلاب زدگان کی امداد اوربحالی کیلئے ملکرکام کرنے کی بھرپورکوشش کی مگراس کے جواب انہیں سیاسی ادکار اورفوٹوسیشن کا شوقین کہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انکے اکٹھے ملکرکام کرنے کی خواہش کا مقصد یہ تھا کہ عالمی دنیا کویہ پیغام دیا جائے کہ مشکل کی اس گھڑی میں تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں۔ مگران کی تجاویزکوکوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ الطاف حسین کا فوجی جرنیلوں کومداخلت کیلئے کہنا سمجھ سے بالاتر ہے،حکومت کی ناکامی کو کسی صورت جمہوریت کی ناکامی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ میاں نواز شریف نے اس موقع پرمطالبہ کیا کہ سیلاب حکومت سیلاب زدہ علاقوں میں ایک لاکھ روپے فی خاندان مہیا کرے۔
وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت کی سست روی اورصوبے کے ساتھ عدم تعاون کی پالیسی کے باعث سیلاب متاثرین کو ابتدائی طورپربیس ہزار روپے کی امداد نہیں دی جاسکی۔ تاہم اب اس کی ادائیگی صوبائی حکومت اپنے ذرائع سے کرے گی۔انہوں نےکہاکہ یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ وفاق کی جانب سے غیر ملکی امداد کی مد میں صوبوں کو نظر اندازکیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس مسئلے کی اہمیت کومد نظررکھتے ہوئے وزیراعظم سے مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں انکی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ اس موقع پرگفتگوکرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثارعلی خان نے کہا کہ انہوں نے سیلاب متاثرین کی بحالی اور امداد کے معاملے پربحث کرنے کیلئے قومی اسمبلی کا اجلاس رواں ماہ کی چھ تاریخ کو طلب کرنے کی ریکوزیشن جمع کروا دی تھی۔ تاہم لگتا ہے کہ حکومت اس حساس معاملے پرارکان اسمبلی کو اعتماد میں نہیں لینا چاہتی۔
Post New Comment