یہ تحریک استحقاق جے یوآئی فضل الرحمن گروپ کے ارکان صوبائی اسمبلی مفتی کفایت اللہ ،شاہ حسین اور ملک قاسم نے جمع کرائی ہے۔ جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الطاف حیسن کے فوجی مداخلت سے متعلق بیان سے ارکان کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔ جمہوری دور میں غیر جمہوری قوتوں کو دعوت دینا آئین پرحملے کے مترادف ہے۔اس سے قبل پشاورمیں میڈیا کوبریفنگ دیتے ہوئےصوبائی وزیراطلاعات میاں افتخارحیسن نے
الطاف حسین کے ملک میں مارشل لاء کے بارے میں بیان پرسخت ردعمل کا اظہارکیا ۔ انہوں نے کہا کہ مارشل لاء کو دعوت دینے سے قبل ایم کیو ایم کے قائد الطاف حیسن کوحکومت سے الگ ہونا چاہیئے تھا۔ میاں افتخار کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم نے آمریت کی گود میں پرورش پائی ہے اس لئے اپنی پرانی روش کو برقرار رکھتے ہوئے الطاف حسین نے مارشل لاء کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ
ایم کیو ایم کی سیاست بلیک میلنگ پرمبنی ہے اوراس نے ہمشہ دوغلی پالیسی اختیارکی ہے۔ صوبائی وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی شدت کم کرنے کے لئےدریائوں کے پاٹ کشادہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ دریائوں کوچھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔انھوں نے کہا کہ ڈی سی اوز کو ہدایت کی کہ متاثرین سیلاب میں امدادی سامان کی تقسیم میں خورد برد کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
Post New Comment