لاہور (خبر نگار خصوصی + نیٹ نیوز + ریڈیو نیوز) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے درمیان ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ مڈٹرم الیکشن مسائل کا حل نہیں بلکہ یہ ملکی مفاد کے منافی ہیں۔ ایک گھنٹہ کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنما¶ں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ مڈٹرم الیکشن ملک میں جاری سیاسی عمل کے لئے نقصان دہ ہوں گے۔ دونوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جمہوریت کے استحکام اور اداروں کی مضبوطی کے لئے مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا جائے۔ دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان روابط بہتر بنائے جائیں تاکہ جمہوری ادارے مستحکم ہوں۔ این آر او کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ادارے کے طور پر عدلیہ جس احترام کا تقاضا کرتی ہے وہ اس کے ساتھ ضرور روا رکھا جائے۔ اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ تمام ادارے اپنے آئینی دائرہ اختیار میں کام کریں گے۔ ملاقات میں جہاں ملک میں جمہوریت اور جمہوری عمل کی تقویت کیلئے سیاسی مفاہمت کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق ہوا وہاں دونوں رہنماﺅں نے ملک میں موثر احتسابی عمل پر اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الزامات کے حوالہ سے جوابدہی کا عمل بھی جاری رہنا چاہئے۔ ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال‘ این آر او کے تفصیلی فیصلہ کے اثرات سمیت متعدد امور پر گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر مکمل عملدرآمد کے پابند ہیں۔ اس حوالہ سے اقدامات کی ہدایات کر دی ہیں۔ ہم اداروں میں محاذ آرائی نہیں چاہتے۔ دونوں رہنماﺅں کا اتفاق تھا کہ ملک کسی قسم کی محاذ آرائی‘ کشمکش اور تناﺅ کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ رجحان ہمیشہ جمہوریت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ جمہوریت اور جمہوری اداروں کے استحکام کیلئے حکومت سے ہرممکن تعاون کرینگے لیکن جوابدہی کا عمل بھی جاری رہنا چاہئے اس لئے کہ جمہوریت نام ہی ذمہ داریوں کے احساس اور اداروں کی بالادستی اور عوام کے سامنے جوابدہی کا ہے۔ ملاقات میں کہا گیا کہ تلخ بیانات کے باعث محاذ آرائی کو تقویت ملی ہے۔ اس حوالہ سے ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار ہونا چاہئے‘ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان مصالحتی پالیسی جاری رہنی چاہئے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بعض ایشوز پر تحفظات سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا اور کہا کہ صدر آئندہ جب بھی لاہور آئینگے ان کا استقبال کرونگا۔ ترکی پہلے سے طے شدہ دورے پر گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے وزیراعظم کو اپنے دورہ ترکی سے آگاہ بھی کیا۔ ملاقات کے حوالہ سے سیاسی حلقوں کی رائے یہی ہے کہ اس ملاقات سے سیاسی درجہ حرارت میں کمی آئیگی اور باہمی تعلقات کے حوالہ سے خدشات دور ہوں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ ملاقات میں کہا گیا کہ حکومتوں اور اسمبلیوں کو اپنی مدت پوری کرنے کا حق ہے لہٰذا مڈٹرم انتخابات کے مطالبے کا کوئی جواز نہیں۔ دونوں نے سیاسی مفاہمت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کبھی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس سے جمہوریت کو نقصان ہو سکتا ہے۔ جمہوریت اور جمہوری اداروں کا تحفظ ہر صورت یقینی بنائینگے۔ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے حوالے سے شکوک سے جمہوریت کو نقصان ہو گا۔ شہباز شریف نے کہا کہ جمہوریت پر آنچ نہیں آنے دینگے‘ صورتحال بہتر بنائینگے۔ جمہوریت کے استحکام اور اداروں کی بالادستی کیلئے تعاون جاری رکھیں گے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں مصالحتی پالیسی جاری رہنی چاہئے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترک حکام تک وزیراعظم کا سلام بھی پہنچایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ عدلیہ کی عزت اور احترام کرتے ہیں۔ عوام کو ریلیف دینے اور ان کی ضروریات زندگی کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات کریں گے۔ موجودہ حالات میں گڈگورننس بہت ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کو سیاسی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ عوامی مینڈیٹ کا احترام ہونا چاہئے۔ دونوں رہنماﺅں نے اتفاق کیا کہ ریاستی اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماﺅں نے اپنی اپنی جماعتوں کے بعض رہنماﺅں کی طرف سے دئیے جانے والے تنقیدی بیان پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کے رہنماﺅں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ ایک دوسرے کی قیادت کے خلاف بیان بازی نہیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے میاں نواز شریف کیلئے وزیر اعلیٰ کو نیک خواہشات کا پیغام دیا۔ شہباز شریف نے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شفاف اور بے لاگ احتساب قومی ضرورت ہے‘ جن لوگوں نے قومی دولت لوٹی ہے انہیں اس حوالے سے جواب دہ ضرور ہونا چاہئے۔ دریں اثناءصدر آصف علی زرداری کی طرف سے مسلم لیگ (ن) سے بہتر تعلقات کے حوالے سے دئیے جانے والے مفاہمتی ٹاسک کے سلسلہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اسلم رئیسانی نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے ان کی رہائشگاہ پر اہم ملاقات کی جس میں ملک کی تازہ ترین سیاسی صورتحال اور خصوصاً پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان موجودہ سخت محاذ آرائی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا‘ دونوں وزرائے اعلیٰ کی طرف سے تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے‘ جمہوری نظام کی مضبوطی کے لئے تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ رئیسانی نے صدر زرداری کے دورہ کے موقع پر بدانتظامیوں پر صدر زرداری کے تحفظات پہنچائے۔ ملاقات میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نثار علی خان‘ وزیر اعلیٰ کے سینئر مشیر سردار ذوالفقار کھوسہ‘ نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز‘ وزیر خزانہ بلوچستان عاصم کرد بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت محاز آرائی کا ماحول ختم کرانے میں جو کردار ادا کر رہے ہیں اس کی مکمل حمایت کی جائے گی۔ مسلم لیگ (ن) موجودہ نظام کی مضبوطی کےلئے بھرپور کردار ادا کرے گی‘ ہم چاہتے کہ حکومت آئین و قانون کی بالا دستی کو یقینی بنائے۔ حکومت کو چاہئے وہ سپریم کورٹ کی طرف سے آنے والی تفصیلی فیصلے پر مکمل عملدرآمد کرائے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دونوں جماعتیں جمہوریت کی حامی اور اس نظام کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہیں۔ دونوں اطراف کے رہنماﺅں کو ایک دوسرے کی قیادت کے خلاف بیان بازی سے بھی اجتناب کرنا چاہئے۔ سیاسی حلقوں نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اسلم رئیسانی سے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ملاقات کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان ملاقاتوں سے گذشتہ کچھ روز سے انتہائی درجے کو پہنچنے والے سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے میں مدد دیگی۔ سپریم کورٹ کی طرف سے این آر او پر آنے والے تفصیلی فیصلے کے بعد دباﺅ کو کم کرنے کےلئے یہ ملاقاتیں انتہائی ضروری تھیں اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس حوالے سے انتہائی دانشمندی سے کام لیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مفاہمتی ٹاسک کے حوالے سے سردار اسلم رئیسانی مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔ رئیسانی نے کہا کہ ملکی حالات ایسے نہیں کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے الجھیں‘ جمہوریت کو بچانا سب جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ شہباز شریف نے رئیسانی کی مفاہمتی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مسلم لیگ (ن) جمہوری سسٹم کو غیر مستحکم کرنے کی بجائے سیاسی عمل اور کردار سے جمہوریت کی تقویت‘ اداروں کی مضبوطی اور آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے گی۔ رئیسانی نے کامیاب دورہ ترکی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نئی پیدا شدہ صورتحال میں آپ اپنا م¶ثر کردار ادا کریں جس سے جمہوریت کو درپیش خطرات و خدشات دور ہوں گے۔ شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کبھی پیچھے نہیں رہے گی‘ البتہ ہم حکومت کو باور کراتے ہیں کہ خدشات و خطرات کے خاتمہ کے لئے طے شدہ امور اور ایجنڈا پر گامزن ہو۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی‘ شہباز شریف نے کہا کہ نواب صاحب آپ کا حکم سر آنکھوں پر‘ جس پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ہمیں آ پ سے ملک و قوم‘ جمہوریت کے حوصلہ سے توقعات ہیں جس پر شہباز شریف نے کہا کہ خدا کرے آپ کی توقعات پر پورا اتریں۔
رحیم یار خان + ملتان (کرائم رپورٹر + ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے چاچڑاں شریف کے مقام پر بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو شہید نے قوم‘ عوام کے حقوق‘ جمہوریت‘ آئین اور پاکستان کی خاطر جان کا نذرانہ دیا ہے۔ بینظیر بھٹو شہید کے وعدے کی تکمیل کیلئے چاچڑاں شریف آیا ہوں۔ پیپلز پارٹی وعدوں کی تکمیل کرنا خوب جانتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس علاقے کیلئے یہ منصوبہ بہت بڑی نعمت ہے۔ ہماری اور ہم سب کی قائد کا خواب تھا خوشی ہے کہ میں ان کے نمائندہ کی حےثےت سے ان کی سیٹ پر بیٹھ کر ان کے خوابوں کی تعبیر پوری کر رہا ہوں۔ یہ منصوبہ تین صوبوں کا سنگم ہے۔ یہ منصوبہ معاشی انقلاب کا باعث بنے گا۔ دل اور شہروں کے فاصلے کم ہونگے۔ سابق وزیر اعظم میر بلخ شیر مزاری اور وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین نے جب بینظیر بھٹو شہید وزیر اعظم تھیں یہ منصوبہ پیش کیا تھا آج میں چاچڑاں شریف میں سنگ بنیاد اور دو ماہ بعد ضلع راجن پور میں منصوبے کا افتتاح کرونگا یہ چھ ارب کا منصوبہ ہے پیپلز پارٹی ایک فلسفہ اور تحریک کا نام ہے بھٹو نے عوام میں پاکستان کا جذبہ مضبوط بنایا وہ عوام کو مضبوط بنانا چاہتے تھے عوام کے حقوق کی جنگ لڑی۔ عوام کی خاطر بھٹو اور بینظیر بھٹو نے جانیں دیں۔ ہم بھی ان کی یہ جنگ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں علم ہے کہ معاشرے میں بیروزگاری‘ بے انصافی اور بدامنی ہے لیکن ہم ان مسائل کو حل کر لیں گے۔ عوام نے ہمیں پانچ سال کیلئے اقتدار دیا ہے ہم عوام کے شکر گزار ہیں کہ پانچ سال بعد پھر وعدوں کی تکمیل کے بعد عوام کی عدالت میں آئیں گے۔ بینظیر بھٹو کا کیا گیا وعدہ پورا کر دیا ہے۔ ہم ملک میں جمہوریت کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ اگر جمہوریت پر آنچ آتی ہے تو اس میں قصور وقت کے سیاستدانوں کا ہو گا اور لوگ کہیں گے کہ سیاستدان اچھے نہیں تھے جن کی وجہ سے جمہوریت کو نقصان پہنچا ۔ ملک عوام اور معیشت کو مضبوط کرینگے‘ انہوں نے اس علاقے سے اپنے رشتے دہراتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ کا تعلق رحیم یار خان سے ہے ان کا بیٹا رحیم یار خان سے ایم پی اے بنا تیسرا خواجہ فرید کی سانجھ ہے جنوبی پنجاب کی محرومیوں کے ختم ہونے کے دن آگئے ہیں اس پل کی تعمیر سے 73 کلو میٹر کا فاصلہ کم ہو جائیگا پیپلز پارٹی وفاق کی علامت ہے بھٹو شہید نے 73ءکا آئین دیا پوری دنیا میں پیپلز پارٹی کی تنظیمیں اور شاخیں ہیں چاروں صوبے اور پاکستان کا کونہ کونہ پیپلز پارٹی کی لڑی میں پرویا ہوا ہے اس موقع پر انہوں نے مقامی ممبران اسمبلی اور قائدین کا علاقے میں کردار کو سراہا‘ انہوں نے کہا کہ بیروزگاری کے خاتمے کیلئے نوجوان تعلیم کی طرف توجہ دیں اور ٹریننگ انسٹیٹیوٹ سے تربیت حاصل کریں حکومت روزگار کی فراہمی کو یقینی بنائے گی اس موقع پر وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے چاچڑاں شریف کو ماڈل ویلج کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ چاچڑاں شریف سے کئے گئے شہدا کے وعدے پورے کر رہے ہیں جنوبی پنجاب میں زیرتکمیل منصوبے جلد مکمل کر لئے جائینگے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی شہادت کے روز پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے خلاف قائم کئے گئے مقدمات کے بارے میں بھی صوبائی حکومت کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے محترمہ کی شہادت اور وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اس سے پہلے دو جگہوں کا نام بینظیر بھٹو کے نام سے منسوب کیا ہے جس میں ایک وہ ہسپتال ہے جس میں محترمہ شہید ہوئیں دوسرا اسلام آباد ایئر پورٹ اور تیسرا اس بننے والے پل کا نام بینظیر بریج کا بھی اعلان کیا انہوں نے کہا کہ قوم اور عوام کے حقوق جمہوریت‘ آئین اور پاکستان کی خاطر بھٹو خاندان نے جو قربانیاں دی ہیں اور جو ان کے عوام سے وعدے ہیں وہ سب کی پارسائی کرتے ہوئے ان کی تکمیل کو یقینی بنائیں گے۔ وفاقی وزیر مواصلات امتیاز صفدر وڑائچ نے کہا کہ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کر کے رہے گی اس پل کی تعمیر سے علاقے میں انقلاب برپا ہو گا‘ ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی پیپلز پارٹی کے ایم این اے میاں عبدالستار نے کہا کہ آج پیپلز پارٹی کی حکومت کی کامیابی بھٹو خاندان کی قربانیوں کا ثمر ہے۔ راجن پور سے منتخب ایم این اے دوست محمد مزاری نے کہا کہ ضلع رحیم یار خان اور راجن پور کے درمیان بننے والے بینظیر بریج سے دلوں میں پڑنے والی نفرتیں کم ہونگی دونوں طرف کے عوام اس پل کی تعمیر سے فیض یاب ہونگے ایم پی اے کرنل (ر) نوید ساجد اور دیگر رہنماﺅں نے بھی خطاب کیا۔ ملتان میں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی پراجیکٹس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ نئی نسل کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں‘ تعلیم کے حصول کے بغیر قومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ بہاءالدین زکریا یونیورسٹی نے علمی میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے‘ نوجوان محنت سے خود کو قوم کا اثاثہ ثابت کریں یقین ہے شدت پسندی جہالت کا نتیجہ ہے‘ حکومت کی بنیادی ترجیح صحت اور تعلیم ہے‘ ملک حالت جنگ میں ہے‘ نوجوانوں کے تعاون کی ضروت ہے‘ طالبان اور شدت پسندی ملک کے لئے خطرہ ہیں‘ ملک کا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکار جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں۔
Post New Comment