لاہور (رفیعہ ناہید اکرام) سابق وفاقی وزیر سیدہ عابدہ حسین نے وزیراعظم گیلانی کی جانب سے میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جمہوریت کیلئے فضا سازگار ہوگی اور دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمتی عمل کو تقویت ملے گی۔ وہ نوائے وقت سے ٹیلیفون پر خصوصی گفتگو کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کردار کے باوجود ملکی مفاد کیخلاف کبھی کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ سے اقتصادی ہی نہیں‘ عسکری اور دفاعی امداد بھی حاصل کررہے ہیں اسلئے اسے کوئی بات ڈکٹیٹ کروانے کی پوزیشن میں نہیں۔ انہوں نے بھارتی صدر پرتیبھا پاٹیل کے پاکستان سے بھارت میں دہشت گردی روکنے کے مطالبے کے ردعمل میں کہا کہ بھارت بھی پاکستان میں انتہاپسندوں کی پشت پناہی بند کرے اور آبی جارحیت سے گریز کرتے ہوئے پاکستان سے پانی کے مسئلے پر بامقصد مذاکرات کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی آپس میں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے حوالے سے بحث مباحثہ کرتے رہیں گے مگر بھارت کو اپنا حق غصب نہیں کرنے دینگے۔ بلوچستان کے حوالے سے انہوں نے امید ظاہر کی کہ مارچ میں پارلیمنٹ سے صدارتی خطاب میں بلوچستان کی ترقی کے حوالے سے مزید اقدامات کا اعلان بھی کیا جائیگا۔ دونوں بڑی پارٹیوں میں محاذ آرائی کی کیفیت کو انہوں نے جمہوریت کا حسن قرار دیا اور کہا کہ وفاق میں مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کو چھوڑ دیا مگر پنجاب میں پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کو نہیں چھوڑا۔ اگر ایسا ہوتا تو مسلم لیگ (ن) کو چودھریوں سے الحاق کرنا پڑتا تاہم انہوں نے کہا کہ (ق) لیگ تین دھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے اسلئے دونوں بڑی جماعتوں کو مختلف پیغام بھجواتی رہتی ہے۔ این آر او کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر بطور وزیر مجھ پر ایسا الزام آتا تو میں فوری طور پر مستعفی ہوجاتی۔ 17 ویں ترمیم کے خاتمے کی صورت میں خواتین کی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کے متاثر ہونے کے حوالے سے کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں تو کبھی مخصوص نشستوں کے حق میں نہیں رہی ہوں تاہم خواتین پارلیمنٹیرینز کی اسمبلیوں میں کارکردگی قابل تحسین ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ امریکی شہری ہیں‘ یوں بھی یہ میرا نہیں جماعت اسلامی کا ایشو ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سرائیکی صوبہ ضرور بننا چاہئے۔ بسنت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب پتنگ بازی پر جو مرضی کہیں مگر میرے لئے انسانی جان زیادہ قیمتی ہے۔ میں صرف اپنا شوق پورا کرنے کی خاطر بچوں کے سر قلم کروا دینے کو گھناﺅنا فعل تصور کرتی ہوں۔
Post New Comment