تازہ ترین:

باز کی نظر سے ہر چور اور سازشی کو دیکھ رہا ہوں‘ پنجاب کے بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی نہیں ہونے دیں گے : صدر آصف علی زرداری

ـ 17 جنوری ، 2010
  • Adjust Font Size
باز کی نظر سے ہر چور اور سازشی کو دیکھ رہا ہوں‘ پنجاب کے بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی نہیں ہونے دیں گے : صدر آصف علی زرداری

لاہور (خبر نگار خصوصی + سٹاف رپورٹر + اپنے نمائندے سے + ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ صدر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ میں آنکھیں بند کر کے اور گونگا بہرا بن کر بیٹھ جا¶ں‘ میں باز کی نظر سے ہر چور اور سازشی کو دیکھ رہا ہوں‘ ہر سازش پر نظر ہے‘ اپنی سیاست کے ذریعے اسے ختم کر دیتا ہوں، پنجاب میں بلدیاتی الیکشن آنے والے ہیں‘ یہاں دھاندلی نہیں ہونے دیں گے‘ ان بلدیاتی الیکشن میں پتہ چل جائے گا کہ عوام کس کے ساتھ ہیں‘ بےنظیر ایمپلائز سٹاک آکشن سکیم کے تحت 5 لاکھ مزدوروں کو سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں حصہ دار بنانے کےلئے گورنر ہا¶س میں مزدوروں کو حصص کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن آنے والے ہیں جس میں کوئی ”گھوسٹ“ پولنگ سٹیشن قائم ہوں گے نہ ہی دھاندلی ہونے دی جائےگی۔ نمبر تبدیل ہوں گے اور نہ ہی الیکٹرانک طریقے سے نتائج تبدیل ہوں گے۔ ہر جیالا پولنگ سٹیشن سے رزلٹ لے کر جائے گا، پھر پتہ چل جائے گا کہ عوام آپ کے ساتھ ہیں یا ہمارے ساتھ ہیں۔ مجھے علم ہے کہ پنجاب میں کارکنوں کو نوکریاں مل رہیں نہ ہی وہ عزت مل رہی ہے جو انہیں ملنی چاہیے میں سب سمجھتا ہوں لیکن میںکہتا ہوں کہ ذرا صبر کرو، ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں پختونخواہ میں دہشت گردی کی وجہ سے کارخانے اور فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، سرمایہ کار تو لاہور میں گلبرگ میں کوٹھی بنا لیتا ہے مگر غریب مزدور کا کیا بنے گا میں ہر اس آدمی کو دیکھ رہا ہوں جو پاکستان کے خلاف سازش کر رہا ہے مگر میں ان کی ہر سازش کو پہلے ہی ناکام بنا دیتا ہوں ان کے عزائم عوام کو بتا دیتا ہوں۔ جب بھٹو کو شہید کیا گیا تو ان کا خیال تھا کہ انہوں نے غریبوں کی امید ختم کردی لیکن انہیں علم نہیں تھا کہ بےنظیر بھٹو مزدوروں، ہاریوں اور غریب عوام کے حقوق کے لئے پھر نکلیں گی، جب انہوں نے بے نظیر بھٹو کو شہید کیا تب بھی ان کا خیال تھا کہ اب غریبوں کے لئے کوئی نہیں اٹھے گا اور انہوں نے غریبوں کا قتل کردیا لیکن انہیں معلوم نہیں کہ ”ہر گھر سے بھٹو نکلے گا، تم کتنے بھٹو مارو گے“۔ جب بھٹو کو شہید کیا گیا تو بےنظیر بھٹو کے سارے انکل پارٹی چھوڑ گئے سب نے سی ای سی سے استعفیٰ دیدیا تھا مگر بی بی کی شہادت کے بعد بلاول بھٹو کے سارے انکل ساتھ موجود ہیں کوئی وزیراعظم ہے تو کوئی وفاقی وزیر ہے، سب ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم نے شہید بی بی کے بعد ان کے وژن کے مطابق ان کا مشن شروع کیا اور پاکستان کو بچا لیا ہم نے کوئی احسان نہیں کیا بلکہ یہ کام آنے والی نسلوں کے لئے کیا ہے۔ ایک سازشی ٹولہ سمجھتا ہے کہ ہمارا گناہ شہید بی بی کی سوچ پر عمل کرتے ہوئے غریبوں کو حقوق دینا ہے، اگر ہم پی آئی اے، ریلوے، سٹیل ملز اور دیگر اداروں میں مزدوروں کو حصہ دے رہے ہیں تو یہ ان کا حق ہے کیونکہ پاکستان دراصل غریبوں کا ہی ہے، اگر یہ ہمارا گناہ ہے تو ہم یہ گناہ کرتے رہیں گے۔ ہم نے آغاز حقوق بلوچستان کیا ہے تو کوئی احسان نہیں کیا بلکہ یہ ان کا حق ہے، ہم بلوچستان کی زمینیں وہاں کے غریبوں کے ذریعے آباد کریں گے، سندھ اور پنجاب میں بنائے جانے والے ڈیموں کی زمینیں بھی وہاں کے غریبوں کو دیں گے مگر کچھ گمراہ مفاد پرستوں کو ہماری اس سوچ سے اختلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھٹو اور بی بی کی شہادت پر فخر ہے، ہم دعا مانگتے ہیں کہ ہمیں بھی ان کی طرح شہادت کی موت نصیب ہو۔ ہمیں پاکستان چلانا آتا ہے اور بچانا بھی، کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خورشید شاہ نے کہا کہ ہم سیاست کرنا جانتے ہیں لیکن ہم صرف شہید بی بی کے وژن کے مطابق مفاہمت کی سیاست کو آگے بڑھا رہے ہیں کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ پاکستان کو صرف پیپلز پارٹی ہی بچا سکتی ہے، دراصل پیپلز پارٹی ہی پاکستان کا دوسرا نام ہے۔ ملک سازشیوں میں گھرا ہوا ہے، چاروں طرف منافق اور دہشت گرد پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ جب صدر لاہور آئے تو لوگوں نے کہا کہ 88ءوالا دور آگیا ہے لیکن یہ 2010ءہے ہم باتوں کو سمجھتے ہیں، ہم لڑنا نہیں چاہتے اگر کوئی ہم سے لڑے گا بھی تو ہم نہیں لڑیں گے کیونکہ ہمیں مضبوط پاکستان چاہئے اور وہ سیاستدانوں کی لڑائیوں سے مضبوط نہیں ہو گا بلکہ مفاہمت کے ساتھ ہی مضبوط ہو گا۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ چند روز پہلے خبریں چل رہی تھیں کہ پیپلز پارٹی سندھ کارڈ استعمال کر رہی ہے آج ہم نے ان کو دکھا دیا ہے کہ ہم پنجاب کارڈ بھی ”پلے“ کرتے ہیں ابھی گلگت بلتستان کا کارڈ میری جیب میں ہے۔ پنجاب کے عوام صدر زرداری کو ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگا نے پر سلام پیش کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر غلام احمد بلور نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہمارا اتحاد ہے اگرچہ یہ چھوٹا سا اتحاد ہے لیکن جب پختون اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیتا ہے تو ہاتھ کٹوا تو سکتا ہے پیچھے نہیں ہٹاتا۔ اس وقت بھی جمہوریت کے خلاف برسر پیکار ہیں، یہ آمر اینکر اپنے آپ کو نہ جانے کیا سمجھتے ہیں مجھے ایک پروگرام میں انہوں نے پوچھا کہ صدر زرداری کب جائیں گے تو میں نے کہا کہ کیا زرداری گن پوائنٹ یا چور دروازے سے آئے ہیں، جمہوریت مخالف قوتیں سن لیں دو سندھی وزیراعظموں کو شہید کیا گیا اب سندھی صدر کے خلاف سازشیں کرو گے تو ملک کے لئے اچھا نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ صدر زرداری کو زندگی اور تندرستی دے کیونکہ یہ کامیاب ہوں گے تو ملک کامیاب ہو گا۔ ڈاکٹروں کی مختلف تنظیموں سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ ملک میں اداروں کی مضبوطی کے لئے سب اپنا کردار ادا کریں کیونکہ اداروں کی مضبوطی سے ہی ملک مضبوط ہو گا۔ حکومت ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے مسائل سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور ان کو حل کرنا ہماری پہلی ترجیح ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بےنظیر بھٹو شہید کی طرح پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت بھی پاکستان کو خوشحال اور مضبوط بنانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ ملک کو کمزور کرنے کی سازشیں کرنے والے ناکام ہونگے اور ہم ہر صورت اداروں اور جمہوریت کا تحفظ کریں گے، عوامی مسائل حل کئے جائیں گے۔ ملک کو مزید مضبوط بنانے اور اداروں کی مضبوطی کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو چاہئے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔ ملک میں اس وقت بہت سے مسائل ہیں لیکن یہ سب مسائل ہمارے اقتدار میں آنے سے پہلے کے ہیں اور ان کو حل کرنے میں دیر لگے گی لیکن وہ وقت دور نہیں جب تمام مسائل حل ہونگے۔ صدر نے کہا کہ ڈاکٹروں پر سروسز کی فراہمی کے دوران حادثاتی اموات پر قتل کے مقدمہ قائم کرنا ناانصافی ہے‘ ڈاکٹروں کے اوقات کار اور تنخواہوں کا نظام ان کا استحصال کر رہا ہے۔ ملاقات کے دوران مختلف ایسوسی ایشنز کے عہدےداروں نے صدر کی دعوت پر شرکت کی۔ وفد کی قیادت جنرل سیکرٹری پی ایم اے پنجاب ڈاکٹر اختر رشید ملک نے کی۔ صدر زرداری نے وفد کو یقین دلایا کہ آپ کی پٹیشن پر لاءڈیپارٹمنٹ ڈاکٹروں کو قانونی تحفظ کے لئے آرڈیننس کے اجرا کا جائزہ لے گا تاکہ ان پر دوران ڈیوٹی کریمنل کیس نہ بن سکے کیونکہ مریض کو نقصان پہنچانے کی نیت نہیں ہوتی‘ وفد نے ڈاکٹروں کے دیگر مسائل پر بھی صدر کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ صدر نے بےنظیر انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک‘ پریم نگر ڈرائی پورٹ‘ خانےوال سے چیچہ وطنی رائےونڈ ریلوے ڈبل ٹریک کا بھی افتتاح کیا۔ ”نیو پریم نگر ڈرائی پورٹ“ اور ملتان سے چیچہ وطنی ریلوے سٹیشن تک ڈبلنگ آف ٹریک کے افتتاح کے موقع پر وفاقی وزیر ریلوے حاجی غلام احمد بلور، چیئرمین ریلوے سمیع الحق خلجی اور جنرل مینجر اپریشن سعید اختر، ایڈیشنل جنرل مینجر ٹریفک جنید قریشی، چیف ٹریفک مینجر ڈرائی پورٹ انظر اسماعیل رضوی اور پبلک سب اکاو¿نٹس کمیٹی کی کنوینئر یاسیمن رحمن بھی موجود تھیں۔ صدر زرداری نے ریلوے حکام کو ریلوے ڈرائی پورٹس پر ماڈرن ٹیکنالوجی سسٹم نافذ کرنے کی ہدایت کی تاکہ درآمد و برآمد کنندگان کو اس سسٹم سے خاطر خواہ فائدہ حاصل ہو۔ چیئرمین ریلوے سمیع الحق خلجی نے صدر زرداری کو وزارت ریلوے کے دیگر جاری پراجیکٹ اور ڈبلنگ آف ٹریک کی اہمیت کے بارے میں مکمل بریفنگ دی اور انہیں بتایا کہ ڈبلنگ آف ٹریک سے کراچی سے چیچہ وطنی ریلوے سٹیشن تک ٹریک ڈبل ہو جائے گا‘ اس سے سفر کا دورانیہ بھی مزید کم ہو جائے گا‘ چیچہ وطنی ریلوے سٹیشن سے رائیونڈ ریلوے سٹیشن تک ڈبلنگ آف ٹریک بھی رواں سال مکمل کر لیا جائے گا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions