باغ/ اسلام آباد (نامہ نگار + ریڈیو مانیٹرنگ) کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں فریق بن کر ایک تاریخی غلطی کی ہے جس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں‘ 2001ء میں جو آگ افغانستان میں لگائی گئی تھی اسی آگ سے آج پورا پاکستان جل رہاہے۔ وہ تحفظ کشمیر کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو ایک بین الاقوامی سازش کے تحت پیچھے دھکیل کر سردخانے میں ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوات میں فوجی آپریشن اور معاہدات توڑنے کے حوالے سے حقائق کو جانچنے کیلئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک کمشن مقرر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمرانوں نے کبھی بھی مسئلہ کشمیر کو اہمیت نہیں دی۔ نہرو، لیاقت علی خان، اعلان لاہور سے لے کر آج تک جتنے معاہدات ہوئے ان تمام دستاویزات میں خوردبین سے بھی کشمیر کا لفظ نظر نہیں آتا۔ غلط پالیسیوں کے باعث مغربی سرحدات کو غیر محفوظ بنا دیا ہے جس سے مسئلہ کشمیر پس منظر میں چلا گیا ہے۔ دریں اثناء ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حکومت کے تمام کاموں کو غلط قرار دینا درست نہیں۔ ہم حکومت میں ہیں لیکن اپنی پارٹی کے ایجنڈے پر عمل بھی کریں گے۔ حکومت ہر چیز کے بارے میں کہتی رہتی ہے کہ اس کا فیصلہ پارلیمنٹ میں ہوگا‘ عدلیہ کے بارے میں بھی یہی کیا جا رہا تھا لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ فیصلہ پارلیمنٹ میں نہیں ہوا‘ حکومت کو چھوڑ دینا آسان چیز نہیں ہوتی۔ پہلے ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے حکومت نے الگ ہونے کا مسئلہ پر کیا اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسائل طاقت کے استعمال سے حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مفتی سرفراز نعیمی کی شہادت کو فرقہ وارانہ فسادات کی کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔ خودکش حملے جائز ہیں یا ناجائز اس کے بارے میں علمی انداز میں اور علمی تحقیق کے ذریعے فیصلہ کرنا چاہئے۔
Post New Comment