متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے لیے لاہورمیں مذہبی جماعتوں کا اجلاس نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکا، منورحسن نے کہا ہے کہ رکاوٹیں دور ہونگی، تبھی اتحاد فعال ہوگا

ـ 13 جون ، 2010
  • Adjust Font Size
متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے لیے لاہورمیں مذہبی جماعتوں کا اجلاس نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکا، منورحسن نے کہا ہے کہ رکاوٹیں دور ہونگی، تبھی اتحاد فعال ہوگا

لاہور میں متحدہ مجلس عمل کو دوبارہ فعال بنانے کے لئے جمعیت اہلحدیث کے مرکزی دفتر میں ایم ایم اے کی سابق جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں امیر جماعت اسلامی سید منورحسن ،جمعیت اہلحدیث کے سربراہ علامہ ساجد میرسمیت کئی مذہبی جماعتوں کےقائدین نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں جے یو ٓائی کے حکومتی اتحاد میں شامل ہونے پرجماعت اسلامی نے کڑی تنقید کی اور معاملہ اجلاس ختم ہونے تک پہنچ گیا لیکن دیگر جماعتوں کے قائدین نے فریقین کو آئندہ اجلاس میں رابطے بحال رکھنے پر رضا مند کرلیا۔ اگلا اجلاس تحریک اسلامی کے دفتر اسلام آباد میں بائیس جولائی کو ہوگا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا کہ جب تک اتحاد کے لیے رکاٹوں کو دور نہیں کیا جاتا ،ایم ایم اے کو دوبارہ فعال نہیں کیا جاسکتا۔ ہم نے اتحاد کے لیے اپنے تحفظات اجلاس میں بیان کردیئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت ایم ایم اے کے بنیادی منشور کو آگے بڑھاتے ہوئے حکومتی اتحاد میں شامل ہوئی،اگر انھیں حکومت یا ایم ایم اے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو ایم ایم اے ان کی ترجیع ہوگی۔  

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions