اسلام آباد + لاہور (نمائندہ نوائے وقت + خصوصی رپورٹر + ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 123 میں 60 روز کے اندر انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے جبکہ نئے امیدواروں کو بھی کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی اجازت دینے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے پنجاب اسمبلی کی خالی نشستوں میں پی پی 82 جھنگ اور پی پی 284 بہاولنگر میں ضمنی انتخابات کا عمل بھی این اے 123 کے ساتھ ہی مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئٹہ میں انتخابات ہوسکتے ہیں تو پنجاب میں بھی ممکن ہیں۔ الیکشن کے انتظامات کرنا حکومت پنجاب کیلئے کوئی مسئلہ نہیں۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے گذشتہ روز استقلال پارٹی کے سربراہ منظور علی گیلانی کی دائر اپیل کی سماعت کی درخواست گذار کی جانب سے شفقت محمود چوہان عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ انتخابات کرانا الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے۔ وہ یہ ذمہ داری ادا کرنے میں مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ہے اور کسی بھی حکومت سے مشورے کا پابند نہیں۔ لاہور کا حلقہ این اے 123 اٹھارہ فروری 2008ءسے خالی ہے جہاں تاحال عام انتخابات ہی نہیں ہو سکے جبکہ دیگر کئی حلقوں میں ضمنی انتخابات کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے۔ الیکشن کمشن کی جانب سے جوائنٹ سیکرٹری شیرافگن نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمشن انتخابات کرانے کیلئے تیار ہے‘ اسے کوئی رکاوٹ درپیش نہیں‘ صرف عدالتی حکم کے باعث تاخیر ہوئی ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے خواجہ حارث ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ پہلے جب انتخابات کرانے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا اس وقت سوات میں آپریشن جاری تھا۔ ملک میں پے در پے خودکش حملے ہورہے تھے۔ لاہور میں بھی کئی واقعات ہوئے تھے۔ سیاستدانوں اور کچھ امیدواروں کو دھمکیاں ملی تھیں لہٰذا اس وجہ سے انتخابات کچھ عرصے کیلئے ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی تھی تاہم اب حالات بہتر ہیں اور الیکشن کروائے جاسکتے ہیں۔ حکومت پنجاب اس کیلئے تیار ہے اور وہ ہرممکن انتظامات بھی کریگی۔ حکومت پنجاب الیکشن کرانے کی مخالفت نہیں کرتی۔ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ 60 روز میں الیکشن کروانا آئینی پابندی ہے۔ عدالت اس سلسلے میں احکامات دے سکتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پہلے سے موجود کاغذات نامزدگی کو برقرار رکھنے کے علاوہ نئے امیدواروں کو بھی انتخابی عمل میں شامل ہونے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ عدالت نے ان کی تجویز سے اتفاق کیا اور اس حلقے میں انتخابات کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے حکم امتناعی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انتخابی عمل 60 روز میں مکمل کرنے‘ نئے امیدواروں کو شامل کرنے اور دیگر دو حلقوں پی پی 82 جھنگ اور پی پی 284 بہاولنگر کا انتخابی عمل بھی اسکے ساتھ ہی مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔ واضح رہے کہ الیکشن کمشن نے 8 اکتوبر 2009ءکو این اے 55‘ این اے 123‘ پی پی 82 اور پی پی 284 میں انتخابات کرانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا تاہم لاہور ہائیکورٹ کے حکم امتناعی کے باعث انتخابی عمل روک دیا گیا تھا۔ آن لائن کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ انتخابی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے‘ مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب آئین کو توڑا جائے‘ عدالت کسی چیز سے خوفزدہ نہیں ہے‘ آئین میں ہر چیز کا جواب موجود ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ میاں نوازشریف لاہور سے انتخابات نہ لڑیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے کہا ہے کہ این اے 123 پر امیدوار کا فیصلہ الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد پارٹی کے پارلیمانی بورڈ میں کیا جائے گا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 17ویں ترمیم کی تلوار کی موجودگی میں پارٹی میں نوازشریف کے پارلیمنٹ کا حصہ ہونے کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ پاکستان ڈیموکریٹک فرنٹ (پی ڈی ایف) کے مرکزی سینئر نائب صدر و سربراہ استقلال پارٹی اور این اے 123سے قومی اسمبلی کے امیدوار سید منظور علی گیلانی نے نوائے وقت سے گفتگو کے دوران اپنی رٹ درخواست پر سپریم کورٹ کے این اے 123 میں الیکشن کروانے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ میثاق جمہوریت پر عمل کر کے الیکشن کمشن کو مضبوط بنانے کی بجائے اس کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کو الیکشن میں ہزیمت اٹھانا پڑے گی۔
Post New Comment