لاہور / اسلام آباد (سپیشل رپورٹر + خبرنگار) الیکشن کمشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 123 لاہور اور این اے 55 راولپنڈی میں ضمنی انتخابات غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیئے ہیں۔ الیکشن کمشن نے انتخابات کے التواء کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جس کے مطابق انتخابات کو چیف سیکرٹری پنجاب کی امن و امان کی غیر تسلی بخش صورتحال اور دہشت گردی کے خطرے سے متعلق رپورٹ کی بنیاد پر ملتوی کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق راولپنڈی کے حلقہ 55 میں انتخاب سے متعلق دیگر مراحل کاغذات نامزدگی‘ حتمی فہرستوں کی پڑتال وغیرہ جاری رہیں گے۔ صوبائی الیکشن کمشنر چودھری قمر الزمان نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صرف پولنگ ملتوی کی گئی ہے اور جو امیدوار اس وقت میدان میں تھے وہی انتخابات لڑیں گے‘ نئی درخواستیں وصول نہیں کی جائیں گے۔ واضح رہے کہ این اے 55 میں پولنگ 4 جولائی جبکہ این اے 123 میں 30 جون کو ہونا تھی۔ این اے 123 سے نواز شریف جبکہ این اے 55 سے شیخ رشید نمایاں امیدوار ہیں۔ بی بی سی کے مطابق وفاقی محکمہ داخلہ کی جانب سے حکومت پنجاب کو مطلع کیا گیا ہے کہ لاہور‘ فیصل آباد اور راولپنڈی کے علاوہ متعدد شہروں کو خودکش حملہ آور نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر صوبائی سکیورٹی اداروں نے انتخابات کے انعقاد کو مشکل قرار دیا ہے۔ ایپی پی کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے انتخابات کے التوا کو قابل قبول قرار دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صوبائی صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب کے سینئر مشیر ذوالفقار کھوسہ نے کہا کہ سکیورٹی کے خدشات میں جلسے جلوسوں کا انعقاد کسی بھی صورت ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی اسی وقت الیکشن کمشن سے انتخابات کے فوری انعقاد کا مطالبہ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا پارلیمنٹ میں پہنچنا اس وقت کا اہم تقاضا ہے تاہم ملکی حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھا جانا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ضمنی انتخابات کے التواء کا اعلان مسلم لیگ (ن) کے لئے قابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سکیورٹی کی صورت حال انتہائی سنگین ہے اور انتخابی سرگرمیوں میں کوئی بھی بڑا سانحہ ہو سکتا تھا۔سیکرٹری الیکشن کمشن کنور دلشاد نے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا کہ یہ فیصلہ پنجاب حکومت کی تحریری درخواست پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے امن و امان کی صورتحال کو غیرتسلی بخش قرار دیتے ہوئے انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔
Post New Comment