اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی‘ ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں‘ امتناع پتنگ بازی سمیت دو ترمیمی بل منظور

ـ 10 نومبر ، 2009
  • Adjust Font Size

لاہور (وقائع نگار خصوصی + ایجنسیاں) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے تیسرے روز بھی شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی‘ گو منسٹر گو کے نعرے لگائے‘ ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں‘ حکومتی رکن خواجہ سلمان رفیق نے نشاندہی کی کہ جو کاغذات پھاڑ کر پھینکے گئے ہیں ان پر نعت رسول مقبولؐ اور دیگر مقدس کلمات درج ہیں جس پر قائم مقام سپیکر رانا مشہود احمد خان نے اپوزیشن کو بار بار باور کرایا کہ یہ گستاخی پر مبنی شرمناک اقدام ہے‘ حکومتی بنچوں سے غلام ہیں غلام ہیں رسول کے غلام ہیں کی نعرہ بازی کی گئی۔ شورشرابے میں امتناع پتنگ بازی اور کچی آبادیوں سے متعلقہ ترمیمی بل منظور کر لئے گئے‘ اجلاس میں مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ کو خراج عقیدت کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 35 منٹ کی تاخیر سے قائم مقائم سپیکر رانا مشہود کی زیر صدارت شروع ہوا۔ نعت رسول مقبولؐ کے فوراً بعد رانا ثناء اللہ نے شاعرمشرق ڈاکٹر علامہ اقبالؒ کے یوم ولادت پر راجہ ریاض احمد کی مشاورت سے مشترکہ قرار داد پیش کرنے کی کوشش کی تو اپوزیشن نے گو منسٹر گو کے نعرے لگانے شروع کر دیئے ان کا مؤقف تھا کہ وزیر قانون کے علاوہ کوئی دوسرا رکن قرار داد پیش کرے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا سپیکر نے اس موقع پر کہا کہ ڈاکٹر اقبال عظیم ترین شخصیت ہیں بلکہ وہ بین الاقوامی شاعر ہیں ہم سب پر ان کی تعظیم لازم ہے۔ قائد حزب اختلاف کی خواہش پر ان کا نام بھی قرار داد میں شامل کر لیا گیا۔ سپیکر نے اس موقع پر رولنگ دیتے ہوئے قائد حزب اختلاف کو قرار داد پیش کرنے کی آفر کی جس پر چوہدری ظہیر الدین نے قرار داد پیش کی جسے متفقہ طور پر ایوان نے منظور کر لیا۔ نکتہ اعتراض پر کامران مائیکل نے کہا کہ ق لیگ مشرف کے تلوے چاٹتی رہی ہے ہمیں ڈاکٹر اقبال کے باعث وطن عزیز نصیب ہوا ہے ہم اس مٹی کا قرض اتاریں گے جبکہ ق لیگ مشرف کے اقدامات کے قرض اتاریں۔ قرار داد پیش کے مطابق اقبالؒ کی شاعری میں وطن پرستی کے جذبات اور انسانی زندگی کے حقیقی مسائل کا ابدی اور بہترین حل موجود ہے ان کے افکار میں قوم کی اصلاح اور ہر محاز پر ہمارے لئے رہنمائی اور جستجو کی تڑپ پیدا کرتی ہے۔ ایوان مسلمانان ہند کو الگ مملکت کے حصول کی خوشخبری دینے والے اس عظیم ہستی کے یوم ولادت پر اس عہد کا اعادہ کرتا ہے کہ اس مملکت خداداد پاکستان کو علامہ اقبال اور قائد اعظم کی خواہشات کے مطابق ایک عظیم مملکت بنایا جائے گا۔ بعدازاں 2تحاریک استحقاق پیش کی گئیں جو ملتوی کر دی گئیں۔ احمد یار ہراج نے رابرٹ فارم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے رولز اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں کی گئیں ہیں۔ قائم مقام سپیکر نے کہا کہ یہ پوائنٹ آف آرڈر ہی نہیں بنتا۔ جس پر احمد یار ہراج نے اپنے ہاتھ میں پکڑی کاپی پھاڑ کر پھینک دی۔ شیخ علائو الدین نے تحریک التواء کار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جاتی عمرہ کے بارے میں کوئی بات کرنی ہے‘ جس پر اپوزیشن بینچوں نے لوٹا ٗ لوٹا ٗلوٹا کے نعرے بلند کرنا شروع کر دئیے۔ بھارت کی طرف سے دریائے چناب کا پانی پھر بند کر دیا ہے۔ اس سے ایک بہت بڑا بحران پیدا ہوگا‘ چنانچہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ بعد ازاں رانا ثناء اللہ نے مسودہ قانون (ترمیم)کچی آبادیاں پنجاب مصدرہ 2009ء پیش کیا تو اپوزیشن کی طرف سے بنچ بجانے شرو ع کر دئیے۔ جو اس دوران ’’گو رانا گو‘‘ ’’گو منسٹر گو‘‘ کے نعرے بلند کرتے رہے۔ خواجہ سلمان رفیق کی نشاندہی پر رانا مشہود نے فوری طور پر عملے کو کاغذات فرش سے اٹھانے کی ہدایت کی۔ آجاسم شریف نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ ہم ان کی ہر بات برداشت کرتے آئے ہیں لیکن ہم توہین رسالت برداشت نہیں کرسکتے۔ قائم مقام سپیکر انہیں ایوان سے نکالیں۔ رانا ارشد نے کہا کہ ان کے خلاف توہین رسالت کیس رجسٹرڈ کروایا جائے۔ بعدازاں اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔ دریں اثنا پتنگ بازی کیلئے پاس ہونے والے بل میں ترمیم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موسم بہار میں پندرہ روز کیلئے ڈسٹرکٹ ناظم صوبائی حکومت سے اجازت لیکر پتنگ بازی کی اجازت دے سکتا ہے جس میں دھاتی ڈور کی اجازت نہیں ہوگی تاہم پتنگ بازی کیلئے یونین کونسل سے اجازت شرط ہوگی۔ علاوہ ازیں پتنگ بازی کرنے پر چھ ماہ قید یا ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا یا دونوں سزائیں بیک وقت بھی دی جا سکتی ہیں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions